زینب قتل کیس جیسے واقعات معاشرے کا سیاہ حصہ ہے، اس کی بڑی وجہ دین اور تعلیم سے دوری اور قانون پر عمل درآمد نہ ہونا ہے،

اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے پارلیمنٹ کو کام کرنا چاہئے وزیر مملکت طلال چوہدری کاایوان بالا کے اجلاس میں بچوں کے اغوا، زیادتی اور قتل کے واقعات اور جان و مال کے تحفظ کی تحریک پر اظہارخیال

پیر فروری 21:37

زینب قتل کیس جیسے واقعات معاشرے کا سیاہ حصہ ہے، اس کی بڑی وجہ دین اور ..
اسلام آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 فروری2018ء) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ زینب قتل کیس جیسے واقعات ملک بھر میں ہو رہے ہیں، معاشرے کا یہ سیاہ حصہ ہے، اس کی بڑی وجہ دین اور تعلیم سے دوری اور قانون پر عمل درآمد نہ ہونا ہے۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے پارلیمنٹ کو کام کرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران سینیٹر سحر کامران کی ملک میں بچوں کے اغواء، جنسی زیادتی اور قتل کے بڑھتے ہوئے واقعات اور لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے تحریک پر بحث سمیٹتے ہوئے کیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ اس سلسلے میں نصاب تشکیل دیں اور آگاہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا کے کردار کو اہم حیثیت حاصل ہے۔

(جاری ہے)

زینب قتل کیس میں میڈیا کا کردار اہم رہا ہے جس کے باعث ملزم عمران پکڑا گیا اور اس کو سزا ملی۔ نجی ٹی وی چینلوں کو عوامی پیغامات کے لئے مختص وقت میں آگاہی کے لئے کام کرنا چاہئے۔ سپیکر نے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے قانون سازی کی سفارشات کے لئے کمیٹی بنائی ہے۔

تفتیش کا سائنسی انداز اور قوانین کا موثر استعمال ناگزیر ہے۔ فرانزک لیبارٹری لاہور میں موجود ہے، پشاور میں بیٹی سے زیادتی ہوتی ہے تو اس کا فرانزک ٹیسٹ لاہور میں ہوتا ہے۔ ہمیں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے ایک دوسرے سے سیکھنا چاہئے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو ملنے والے اختیارات کا احتساب بھی کرنا چاہئے کہ انہوں نے اپنی استعداد کار میں اضافہ کیلئے کیا کیا ہے۔ قرارداد پر سینیٹر سحر کامران، طاہر حسین مشہدی، سراج الحق، تنویر الحق تھانوی، عثمان کاکڑ، کلثوم پروین، حافظ حمد الله اور دیگر ارکان نے اظہار خیال کیا۔