بہادرآباد سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ہم الگ ہیں، میں کھلے دل اور کھلے ذہن سے جارہا تھا مگر میرا راستہ روکا گیا، ڈاکٹر فاروق ستار

انٹرا پارٹی الیکشن کے بعد بہادرآباد میں کافی مایوسی چھائی ہوئی ہے، میرے خیر سگالی پیغام کے بعد بھی راستے میں کانٹے بچھادیئے گئے ڈاکٹر خالد مقبول بھائی شریف آدمی ہیں انکا چہرہ دکھا کر کام کوئی اور فون پر کرواتا ہے، میرے پاس تین تہائی اکثریت ہے مہاجروں کی نسل کشی اور پختونوں کے قتل میں آصف علی زرداری کو بھی شامل تفتیش کیا جائے، پی آئی بی میں میڈیا سے گفتگو

پیر فروری 23:35

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 فروری2018ء) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ بہادرآباد سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ہم الگ ہیں، یں کھلے دل اور کھلے ذہن سے جارہا تھا مگر میرا راستہ روکا گیا، کمروں میں بیٹھ کر ایم کیو ایم نہیں چلے گی۔انٹرا پارٹی الیکشن کے بعد بہادرآباد میں کافی مایوسی چھائی ہوئی ہے، میرے خیر سگالی پیغام کے بعد بھی راستے میں کانٹے بچھادیئے گئے، ڈاکٹر خالد مقبول بھائی شریف آدمی ہیں انکا چہرہ دکھا کر کام کوئی اور فون پر کرواتا ہے، میرے پاس تین تہائی اکثریت ہے،آصف علی زرداری کی جانب سے مہاجروں کی نسل کشی کرنے والے قاتل رائو انوار کو بہادر بچہ کہنے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

مہاجروں کی نسل کشی اور پختونوں کے قتل میں آصف علی زرداری کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پی آئی بی کالونی میں واقع اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ مجھے بہادرآباد سے ساتھیوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ ہم الگ ہیں۔ عامر خان نے کہا ہے کہ فاروق بھائی آئیں تو چائے پلا کر روانہ کردیں گے۔

میرے پاس تین تہائی اکثریت ہے۔ عامر خان بھائی یہ طریقہ نہیں ہے بات کرنے کا۔ میں کھلے دل اور کھلے ذہن سے جارہا تھا مگر بہادرآباد کے ساتھیوں نے میرا راستہ روکا گیا۔ کمروں میں بیٹھ کر ایم کیو ایم نہیں چلے گی۔ کارکنان و عوام میں جارہے ہیں۔ اب عوام میں جاکر کام ہوگا۔ فاروق ستار نے کہا کہ سینیٹ کی چار نشستوں کیلئے میں نے بہادرآباد کے ساتھیوں کو کہا تھا کہ نام آپ دیں اعلان میں کردوں گا۔

ڈاکٹر خالد مقبول بھائی شریف آدمی ہیں انکا چہرہ دکھا کر کام کوئی اور فون پر کرواتا ہے مگر مجھے نام دئیے بغیر بہادرآباد کے ساتھیوں نے ٹکٹ ودرا کر لئے ۔ بہادرآباد کے ساتھیوں نے ہماری طے شدہ بات کی صریحا خلاف ورزی کی۔ یہ عمل بہادرآباد کے ساتھیوں کا انتہائی غیر مناسب غیر اخلاقی عمل ہے۔ انٹرا پارٹی الیکشن کے بعد بہادرآباد میں کافی مایوسی چھائی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کنور نوید جمیل نے کہا کہ کارکن بن کر آئیں تو آجائیں جو غیر سیاسی رویہ تھا۔ میں نے خیر سگالی کا پیغام بھی دیا لیکن میرے لئے راستوں میں کانٹے بچھا دئیے گئے۔ کڑوے جملوں کے استعمال سے دوریاں پیدا ہوتی ہیں۔ شرط رکھ کر مجھے بلایا جاتا ہے جو کہ غیر مناسب طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے رابطہ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس کیا۔ پہلے اجلاس میں مجھے بلا مقابلہ کنوینر منتخب کیا گیا۔

نو منتخب رابطہ کمیٹی کا دوسرا اجلاس کیا۔دوسرے اجلاس میں تین نکاتی ایجنڈا زیر بحث تھا۔ انہوں نے کہا کہ کل کارکنان کی غیر معمولی تعداد نے کل ووٹ دے کر مجھے اپنا سربراہ مانا۔ پورے ملک میں ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آصف علی زرداری نے جس طرح بدنام زمانہ مفرور قاتل پولیس افسر را انوار کو ہیرو کہا۔

خصوصی طور پر ایم کیو ایم کے کارکنان اور مہاجروں کے قتل عام پر رائو انوار کو اعزاز سے نوازا۔ آصف زرداری نے مہاجروں کی نسل کشی کرنے والے قاتل کو بہادر بچہ کہا جس کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آصف زرداری نے اعتراف کرلیا کہ رئوا انوار نے مہاجروں کی جو نسل کشی کی اس کا لائسنس آصف زرداری نے دیا تھا۔ یہ آصف زرداری کا اعتراف جرم ہے۔

مہاجروں کے بچوں کے قتل عام پر آصف زرداری نے رائو انوار کو بہادر کہا جس پر مہاجر قوم کی دل آزاری ہوئی۔ جنہوں نے اردو بولنے والوں اور مہاجروں کو لڑوایا اس سازش کے پیچھے آصف علی زرداری تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سازش تھی مہاجروں کی نسل کشی کی جو آصف زرداری کے اس بیان سے بے نقاب ہوئی۔ آصف زرداری طے کرلیں کے رائو انوار سے انکے تعلقات کتنے دیرینہ ہیں۔

رائو انوار کی پیٹ تھپتھپا کر ہمارے زخموں پر نمک پاشی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ہزاروں بے گناہ لوگوں کو رائو انوار نے شہید کیا۔ ہم نے قرار داد منظور کی ہے کہ مہاجروں کی نسل کشی اور پختونوں کے قتل میں رائو انوار کے ساتھ آصف زرداری کو بھی شامل تفتیش کیا جائے۔ ہمیں شازیہ فاروق کیلئے بھی انصاف چاہئے۔ آصف زرداری کے بیان سے آج واضح ہوگیا کہ ہمارا قاتل کون ہے۔

چیف جسٹس صاحب کو اس بیان پر سو موٹو لینا چاہئے اور آصف زرداری کو سپریم کورٹ طلب کیا جانا چاہیے ۔ جنہوں نے مہاجروں کو مارا ہے انہیں بھی انصاف کے کٹھہرے میں لانا چاہئے۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت بھی ہمارے کارکنان کے ماورائے عدالت قتل پر ختم ہوئی تھی۔ شاید محترمہ شہید کو بھی معلوم نہ ہو کہ ان کی حکومت میں مہاجروں کو آصف زرداری قتل کرواتے تھے۔