فاٹا میں رواج ایکٹ انسانی حقوق کے منافی ہے ،کسی صورت قابل قبول نہیں، اسفندیار ولی خان

بدھ فروری 00:00

پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 فروری2018ء) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ فاٹا میں رواج ایکٹ انسانی حقوق کے منافی ہے اور کسی صورت قابل قبول نہیں ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ولی باغ میں ملاقات کیلئے آنے والی خواتین کی تنظیم ’’ خور آرگنائزیشن‘‘ کی بانی شاہدہ شاہ اور قبائلی خواتین نیٹ ورک ’[ قبائلی خور‘‘ کی صدر کی قیادت میں آنے والی قبائلی خواتین کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر مرکزی جنرل سیکرٹری میاں افتخار حسین ، صوبائی نائب صدر عمران آفریدی، جمیلہ گیلانی اور صوبائی جائنٹ سیکرٹری شگفتہ ملک بھی ملاقات میں موجود تھیں ، وفد نے اسفندیار ولی خان کو قبائلی خواتین کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور کہا کہ تمام قبائلی عوام بشمول خواتین فاٹا کا صوبے میں فوری انضمام کے حق میں ہیں ، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی ابتداء سے ہی فاٹا کے صوبے میں انضمام کے حق میں ہے اور ہمیشہ خواتین کو احترام کی نگاہ سے دیکھا ہے ، انہوں نے کہا کہ عورتوں کے حقوق بحیثیت انسان مردوں کے برابر ہیں اسی لئے اے این پی میں خواتین کا کوئی الگ ونگ نہیں بلکہ برانچ سے لے کے مرکزی تک خواتین کو مناسب نمائندگی دی گئی ہے ،انہوں نے کہا کہ ملکی سیاست میں خواتین کا کردار مسلمہ ہے ،اور اے این پی ہمیشہ سے خواتین اور مردوں کی برابری پر یقین رکھتی ہے جبکہ خواتین کوعملی سیاست میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار کرنے کا سہرا فخر افغان باچاخانؒ کے سر ہے جنہوں نے خدائی خدمتگار تحریک کے ذریعے خواتین کو میدان عمل میں نکلنے کی تعلیم دی، انہوں نے کہا کہ اے این پی نے اپنے دور میں جو اہم کارنامے انجام دیئے ہیں اُن سے خواتین کو ترقی کے دھارے میں شامل کرنے میں خاطر خواہ کامیابی ملی ،اسفندیار ولی خان نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ اے این پی ان کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہے اور ان کے جائز حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی،انہوں نے کہا کہ اے این پی کے انتخابی منشور میں بھی خواتین کے حقوق کا تحفظ کو لازمی قرار دیا گیا ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کو صوبے میں فی الفور ضم کر کے ایف سی آر کا خاتمہ کیا جائے جبکہ انسانی حقوق کے منافی رواج ایکٹ کو ختم کیا جائے انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور پشاور ہائیکورٹ کا فاٹا کا دائرہ اختیار دینے کے اعلان کو جلد عملی جامہ پہنایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ہم قبائل کے صوبے میں انضمام خصوصی پیکج کے ساتھ چاہتے ہیں اور اس میں سب کے ساتھ خواتین کو بھی جائز حقوق دیئے جانے چاہئیں۔

متعلقہ عنوان :