ملک کی بقا قانون کی حکمرانی میں ہے ،ہمیں کسی سے محاذ آرائی نہیں کرنی ، جسٹس ثاقب نثار

اپنی ذمہ داری پوری کررہا ہوں،باقی آئندہ آنے والوں کی ہوگی، جو بھی کام کرتا ہوں قانون کے مطابق کرتا ہوں ، منافق نہیں ہوں ، تین چیزیں خوف ،مصلحت اور مفاد قاضی کے لئے زہر قاتل ہیں ان سے نکل کر ہی بہترین فیصلے کئے جاسکتے ہیں،چیف جسٹس سپریم کورٹ وکلاء میرے سپاہی ہیں ،انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے مسائل حل کرنے میںمیرا ساتھ دیں، میں سوسائٹی کی لعنت کے خلاف جنگ لڑرہا ہوں،یہ فرائض میں شامل ہے کسی پر احسان نہیں اب تک 43 ریفرنسز نمٹا چکے ہیں، جون تک تمام ریفرنسز کو نمٹا دیا جائے گا،ہماری ذمہ داری ہے ہم معاشرے کے ان مظلوم لوگوں کیلئے کیس لڑیں جن کے پاس اپنا کیس لڑنے کی استطاعت نہیں ، وکلا ججز کی جھاڑ کو دل پر نہ لیں ان کے سخت الفاظ آپ کی اصلاح کا سبب بن سکتے ہیں ، ایک جج کو اپنی عزت خود کرانی ہوتی ہے،اگر وکالت میں رہنا ہے تو شاندار وکیل بنیں مجھے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں آنے کے لیے 10 سال لگے،اسلام آباد ہائی کورٹ میں تقریب سے خطاب

جمعرات فروری 21:36

ملک کی بقا قانون کی حکمرانی میں ہے ،ہمیں کسی سے محاذ آرائی نہیں کرنی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 فروری2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے ملک کی بقا قانون کی حکمرانی میں ہے ، ہمیں کسی سے محاذ آرائی نہیں کرآنی، جو بھی کام کرتا ہوں قانون کے مطابق کرتا ہوں ، منافق نہیں ہوں ، تین چیزیں خوف ،مصلحت اور مفاد قاضی کے لئے زہر قاتل ہیں ان سے نکل کر ہی بہترین فیصلے کئے جاسکتے ہیں ،انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے مسائل حل کرنے میں وکلا میرا ساتھ دیں، میں سوسائٹی کی لعنت کے خلاف جنگ لڑرہا ہوں،یہ فرائض میں شامل ہے کسی پر احسان نہیں ، اب تک 43 ریفرنسز نمٹا چکے ہیں، تاہم جون تک تمام ریفرنسز کو نمٹا دیا جائے گا،ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم معاشرے کے ان مظلوم لوگوں کیلئے کیس لڑیں جن کے پاس اپنا کیس لڑنے کی استطاعت نہیں ، وکلا ججز کی جھاڑ کو دل پر نہ لیں ان کے سخت الفاظ آپ کی اصلاح کا سبب بن سکتے ہیں ۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ ایک جج کو اپنی عزت خود کرانی ہوتی ہے،اگر وکالت میں رہنا ہے تو شاندار وکیل بنیں مجھے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں آنے کے لیے 10 سال لگے۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جج کی مجبوری یہ نہیں کہ اسے کیا کہنا ہے، بلکہ یہ سوچنا ہے کیا نہیں کہنا ہے، جب کیا نہ کہنے کی صورت میں ہوں تو بہت چیزیں آپ کہہ نہیں پاتے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ چیزوں سے سو فیصد اتفاق ہے، ملک میں قانون کی حکمرانی ہو کیونکہ ملک کی بقا قانون کی حکمرانی سے منسلک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے معاشرے میں بدقسمتی سے بے انصافی کی رمق رہی ہے، ہم نے معاشرے سے بے انصافی کے خاتمے کا آغاز کردیا ہے۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کی عملداری اور مضبوط جوڈیشل سسٹم ضروری ہے، ملک کی بقا قانون کی حکمرانی میں ہے، ہم نے کسی سے محاذ آرائی نہیں کرنی، ہم نے ان لوگوں کے لیے جنگ لڑنی ہے جو اپنے حقوق حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، کوشش کررہے ہیں کہ لوگوں کو جلد سستا اور اچھا انصاف دیں۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عدلیہ کی کارکردگی ایک سال پہلے کے مقابلے میں بہتر ہے، صاف پانی اور سستا انصاف جیسے مسائل یہ سب میری کاوش اور جدوجہد ہے، بدقسمتی سے ہم اپنے مقصد سے ہٹ گئے لیکن اب بھی وقت ہے، انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے مسائل حل کرنے میں وکلا میرا ساتھ دیں، میں سوسائٹی کی لعنت کے خلاف جنگ لڑرہا ہوں، یہ سب میرے فرائض میں شامل ہے کسی پر احسان نہیں کررہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جج کو اپنی عزت خود بھی کرانی چاہیے، ٹھوک بجا کر انصاف کریں، جو بنتا ہے وہ فیصلہ کریں، قطع نظر کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ قاضی کے لیے تین چیزیں زہر قاتل ہیں، خوف، مصلحت اور مفاد، جب قاضی سے یہ باہر نکل جائے تو وہ انصاف فراہم کرتا ہے۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ میں منافق نہیں ہوں، جو سمجھ آتا ہے وہی کرتا ہوں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ معاشرے سے نا انصافی کے خاتمے کا آغاز کردیا گیا۔ محنت اور دیانت ہی ترقی کا زینہ ہے، تاہم ہم بدقسمتی سے اپنی سمت سے ہٹ گئے ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اب تک 43 ریفرنسز نمٹا چکے ہیں، تاہم جون تک تمام ریفرنسز کو نمٹا دیا جائے گا۔۔چیف جسٹس نے شرکا سے خطاب میں بھرپور انداز میں خوش آمدید کہنے پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تقریب میں غیر معوملی عزت سے نوازا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جج صاحبان کو نتائج سے قطع نظر ہو کر عدالتی فیصلوں کو میرٹ کی بنیاد پر کریں۔۔چیف جسٹس نے نوجوان وکلا کو مکاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو محنت کرتے ہوئے لطیف کھوسہ اور اعتزاز احسن جیسے نامور اور صفت اول کے وکلا کی فہرست میں شامل ہونا چاہیے اور اگر آپ سخت محنت کریں گے تو یہ موقع آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔خطاب کے اختتام پر چیف جسٹس نے جج اور وکلا کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو سخت محنت کے ساتھ اپنے فرائض کی انجام دہی کرنی ہے اور معاشرے کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے جو بیڑا ہم نے اٹھایا اس میں آپ کی مدد درکار ہے۔

انہوں ںے کہا کہ ہر وکیل کو اپنے ذہن میں یہ ٹارگٹ رکھ کر کام کرنا چاہیئے کہ ایک روز اسے چیف جسٹس کی کرسی پر بیٹھ کر انصاف کرنا ہے۔انہوں ںے کہا کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم معاشرے کے ان مظلوم لوگوں کیلئے کیس لڑیں جن کے پاس اپنا کیس لڑنے کی استطاعت نہیں ، چیف جسٹس نے کہا کہ اس ملک کی بقا صرف اور صرف قانون کی حکمرانی میں ہے اور جب تک ملک میں قانون کا بول بالا نہیں ہوگا ہم معاشرے میں امن اور انصاف کا دور واپس نہیں لاسکتے ۔

چیف جسٹس ثاقب نثارکا کہنا تھا کہ وکلا سماجی مسائل کو حل کرنے میں میری فوج ہیں، وکلا میرے سپاہی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں جنگ شروع کردوں، میں نے انصاف کی فراہمی کا حلف لیا تھا، میں اپنی ذمہ داری پوری کررہاہوں۔ باقی ذمہ داری آئندہ آنے والوں کی ہوگی، ان کا کہنا تھا کہ میں معاشی برائیوں سے لڑرہا ہوں، محنت کرنے سے فوری انصاف کی فراہمی کا موقع آپ سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر وکالت میں رہنا ہے تو شاندار وکیل بنیں مجھے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں آنے کے لیے 10 سال لگے، ایک وکیل بننے کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب کہ وکلا ججز کی جھاڑ کو دل پر نہ لیں ان کے سخت الفاظ آپ کی اصلاح کا سبب بن سکتے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جج کو اپنی عزت خود کرانی ہوتی ہے۔