ثقافت اور جمہوریت کے درمیان گہرا رشتہ ،قلم اور فنکاروں کے ذریعے انتہاپسندی ،عدم برداشت سے نجات ممکن ہے،مریم اورنگزیب

پاک چین ثقافتوں کے تبادلے سے سی پیک کو کامیاب کرنے میں مدد ملے گی، فنکاروں اور فنون لطیفہ کے شعبے کے آرٹسٹس نے ملکی تشخص کی بحالی کیلئے اہم کردار ادا کیاہے، وزیر مملکت اطلاعات میڈیا اور فن انڈسٹری کو آزاد اور بہترین سہولیات کی فراہمی نواز شریف کا وژن تھا،حکومت فنکاروں کی حوصلہ افزائی ، معاونت کی پالیسی جلد لارہی ہے، پالیسی کی تشکیل میں صوبوں کی مشاورت شامل ہے، تقریب سے خطاب

جمعہ فروری 19:26

ثقافت اور جمہوریت کے درمیان گہرا رشتہ ،قلم اور فنکاروں کے ذریعے انتہاپسندی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 فروری2018ء) وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ثقافت اور جمہوریت کے درمیان گہرا رشتہ ہے،قلم اور فنکاروں کے ذریعے انتہاپسندی اور عدم برداشت سے نجات ممکن ہے،پاکستان اور چین کی ثقافتوں کے تبادلے سے سی پیک کو کامیاب کرنے میں مدد ملے گی،آرٹسٹ کنونشن کا مقصدمیڈیا کو ثقافت کے احیاء کیلئے سرگرم کرنا ہے،فنکاروں اور فنون لطیفہ کے شعبے کے آرٹسٹس نے بھی پاکستان کے تشخص کی بحالی کیلئے اہم کردار ادا کیاہے، میڈیا اور فن انڈسٹری کو آزاد اور بہترین سہولیات کی فراہمی نواز شریف کا وژن تھا،حکومت فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور ان کی معاونت کی پالیسی جلد لارہی ہے، قومی ثقافتی پالیسی کی تشکیل میں صوبوں کی مشاورت شامل ہے۔

وزیر مملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے یہ بات وزارت اطلاعات کے زیر اہتمام قومی آرٹسٹ کنونشن 2018 اور سی پیک ثقافتی کارواں کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

(جاری ہے)

اسلام آباد میں قومی آرٹسٹ کنونشن کا آغاز (آج) ہفتہ سے ہوگا جبکہ سی پیک کلچرل کاررواں فیسٹول کا آغاز (کل) اتوار سے ہو گا ۔ تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے وزیرمملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ آرٹسٹ کسی بھی معاشرے میں ثقافتی اقدار کے محافظ ہوتے ہیں،آرٹسٹ کنونشن کا مقصدمیڈیا کو ثقافت کے احیاء کیلئے سرگرم کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ میڈیا سے درخواست ہے کہ ایونٹ کی بھرپورکوریج کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پہلی فلم اور کلچرل پالیسی کا اعلان آج کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے سیکیورٹی صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آرٹسٹ کمیونٹی کو تقویت دینے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کھیلوں کے میدان آباد ہورہے ہیں،تمام ترکوششوں کا مقصد بطورامن پسند ملک پاکستان کا تشخص اجاگرکرنا ہے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ ثقافتی سرگرمیاں کسی بھی صحتمندمعاشرے کی عکاس ہوتی ہیں،قلم اور فنکاروں کے ذریعے انتہاپسندی اور عدم برداشت سے نجات ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے کلچر کو بھی بہت متاثر کیاہے،پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے بڑی قربانیاں اور کامیابیاں حاصل کیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سی پیک کی کامیابی مل کر ہی حاصل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک کو کامیاب کرنے میں پاکستان اور چین کے ثقافتوں کے تبادلے سے مدد ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ یہ سی پیک ڈور آف پیپلز اینڈ کلچر بھی ہے۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ 35،40 سال سے وطن کا اصلی چہرہ غائب رہاہے۔فنکاروں اور فنون لطیفہ کے شعبے کے آرٹسٹس نے بھی پاکستان کے تشخص کی بحالی کیلئے اہم کردار ادا کیاہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی میڈیا اور کلچر انڈسٹری کوپروان چڑھانے کیلئے آگے آئے ۔ ثقافت اور جمہوریت کے درمیان گہرا رشتہ ہے،جب بھی ڈکٹیٹرشپ آئی فن اور کھیل کے شعبے کو تباہ کیاگیا،آج براڈ کاسٹ ، کلچر انڈسٹری کی بحالی ہورہی ہے،کھیلوں کے میدان آباد ہو رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ جمہوری حکومت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کاوژن تھاکہ میڈیا اور فن انڈسٹری کو آزاد اور بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم کیوں متبادل بیانئے کی بات کرتے ہیں، ہمارا بیانیہ کھبی غلط رہاہی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں جنگ کی صورتحال میں بھی فنکاروں نے جذبوں کوگرمایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خاتمے کیساتھ ساتھ عدم برداشت کے کلچر کو فن کی حوصلہ افزائی سے تبدیل کرسکتے ہیں، مریم اورنگزیب نے کہا کہ ثقافت شعبوں کی بحالی سے معاشرے کی ترقی اور مضبوطی ممکن ہوسکے گی۔ وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت فنکاروں کی حوصلہ افزائی اور ان کی معاونت کی پالیسی جلد لارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 26 فروری کو وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ثقافتی پالیسی اور فلم پالیسی کا اعلان کرینگے ۔انہوں نے کہا کہ قومی ثقافتی پالیسی کی تشکیل میں صوبوں کی مشاورت شامل ہے۔