پی اے آر سی کے زیر اہتمام چوتھی موسمیاتی تبدیلی سے موافقت کی پالیسی اور سائنس کانفرنس کی افتتاحی تقریب

ملکی اور بین الاقوامی ماہرین نے اس کانفرنس میں بھر پور شرکت کی، کانفرنس کا انعقادPARC کے زیر اہتمام HI-AWARE تحقیقی منصوبہ کے تحت کیا گیا

پیر فروری 20:58

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 26 فروری2018ء)پی اے آر سی کے زیر اہتمام چوتھی موسمیاتی تبدیلی سے موافقت کی پالیسی اور سائنس کانفرنس کی افتتاحی تقریب اسلام آباد کے ایک لوکل ہوٹل میں منعقد کی گئی۔ وفاقی وزیر مملکت برائے انفارمیشن اینڈ براڈکاسٹنگ، مس مریم اورنگزیب ، نے تقریب کا افتتاح کیا۔ ملکی اور بین الاقوامی ماہرین نے اس کانفرنس میں بھر پور شرکت کی۔

اس کانفرنس کا انعقادPARC کے زیر اہتمام HI-AWARE تحقیقی منصوبہ کے تحت کیا گیا۔ اس کانفرنس میں موسمی تغیرات سے موافقت اور سائنس کی نئی پالیسی سے روشنائی کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔ چئیرمین پی اے آر سی، ڈاکٹر یوسف ظفر، تمغہ امتیاز نے ابتدائی بریفنگ دی۔ انہوں نے مہمانان کو خوش آمدید کہا اور موسمی تبدیلیوں کے بارے میں معلومات کی فراہمی کے حوالے سے شُرکاء کی حوصلہ افزائی کی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس سے تمام لوگوں کو ایک دوسرے کے تجربات اور معلومات سے استفادہ حاصل کرنے میں انتہائی مدد ملے گی۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد شفیق ، ڈپٹی سیکرٹری، وزارتِ تحفظ خوراک و تحقیق نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ موسمی تبدیلیوں کا مسلئہ 21 ویں صدی کا اہم معاملہ ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور کم بارشیں اور دیگر اس قسم کے مسائل پاکستان جیسے ممالک کو گھیرے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور مہنگائی آنے والے وقت میں ایک چیلنج ثابت ہونگے۔ انہوں نے HI-AWARE منصوبے کے کام کی تعریف کی جو کہ پاکستان میں زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے اپنی سفارشات مرتب کر رہا ہے۔ ڈاکٹر ڈیوڈ مولڈن، ڈائریکٹر جنرل ICIMOD نے اس موقع پر کہا کہ ہندو کش ہمالیہ میں 240 میلین لوگ بستے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف ان علاقوںمیں رہنے والے بلکہ پہاڑوں سے نیچے والی آبادی کی فصلات اور مویشیوں کے لیے پانی کا ذریعہ بہت ہی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ انڈس دریا پہاڑوں سے پگلنے والی برف سے ہی بھرا رہتا ہے اور موسمی تبدیلیوں سے اس پر بہت اثرات پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑوں پر بسنے والی آبادی کو سہولیات فراہم کرنا انتہائی نا گزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس جیسی تقریبات سے مستقبل میں موسمی تغیرات سے نمٹنے کے لیے بہت مدد حاصل ہو گی۔ اس موقع پر کینڈا کے ہائی کمیشنر مسٹر پیری، جے کارڈرووڈ نے کہا کہ کینڈین حکومت پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کو موسمی تغیرات سے نمٹنے کے لیے بھر پور رہنمائی اور معاونت کر رہے ہیں۔

اس موقع پر مس رومینا خورشید عالم ، پارلیمانی سیکرٹری نے اہم مکالات پیش کیے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 2013 میں موسمی تغیراتی پالیسی بنائی گئی اور اب پالیسی بنانے والی کونسل بنائی جا رہی ہے جو کہ موسمی تغیرات پر تحقیق کر کے معلومات کو عام لوگوں تک پہنچائے گی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر مملکت ، مریم اورنگزیب نے اپنے خیا لات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی حکومت نے موسمی تغیراتی پالیسی کو اپنانے کی ضرورت پر بہت زور دیا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے طریقہ کار وضع کیے ہیںانہوں نے کہا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ موسمی تغیراتی پالیسی اور اس سے جڑی معلومات کو لوگوں تک پہنچائیں۔

انہوں نے کہا کہ سائنس اور پالیسی میں طلباء کو بھی شامل کرنا چاہیے کیونکہ مستقبل کے لحاظ سے ان کی موسمی تغیرات اور اسکے اثرات سے واقفیت بہت ضروری ہے۔ تقریب کے آخر میں چئیرمین پی اے آر سی مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔ اس کانفرنس میں ملکی و بین الاقوامی ماہرین جن میں ڈاکٹر ہیسٹر بیمانز، ڈاکٹر کرسٹین سایڈرس، ڈاکٹر لاوری این ویزلی، ڈاکٹر فلپس، ڈاکٹر امینہ مہر جان، ڈاکٹر عابد حسین، فرید احمد اور ڈاکٹر ارن بختا شریتھا شامل تھے نے شرکت کی ۔اور موسمی تغیرات کے حوالے سے معلومات اور اقدامات کو سراہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔طارق ورک