پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی قیادت بلوچستان سے آزاد سینیٹر محمد صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ بنانے پر متفق

ڈپٹی چیئرمین پیپلزپارٹی کا ہو گا ،تحریک انصاف کے تمام سینیٹرز بھی ووٹ کریں گے ،ذرائع محمد صادق سنجرانی ماضی میں پیپلزپارٹی سے وابستہ رہے ہیں انہیں وزیر اعلٰی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی مکمل حمایت حاصل ہے تحریک انصاف کو بھی صادق سنجرانی کے نام پرکوئی اعتراض نہیں، آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں پارٹی کا مشاورتی اجلاس پارٹی کی تمام اعلٰی قیادت کے علاوہ سبکدوش ہونیوالے چیئرمین سینٹ رضا ربانی بھی شریک رہے

ہفتہ مارچ 22:30

پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی قیادت بلوچستان سے آزاد  سینیٹر محمد صادق ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مارچ2018ء) باوثوق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت بلوچستان سے آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے سینیٹر محمد صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ بنانے پر متفق ہو گئی ۔ ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے لئے امیدوار پاکستان پیپلزپارٹی کا ہو گا جسے تحریک انصاف کے تمام سینیٹرز بھی ووٹ کریں گے ۔

محمد صادق سنجرانی ماضی میں پاکستان پیپلزپارٹی سے وابستہ رہے ہیں انہیں وزیر اعلٰی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی مکمل حمایت حاصل ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کو بھی صادق سنجرانی کے نام پرکوئی اعتراض نہیں۔ رات گئے تک پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے صدر بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں پارٹی کا مشاورتی اجلاس جاری رہا۔

(جاری ہے)

اس اجلاس میں پارٹی کی تمام اعلٰی قیادت کے علاوہ سبکدوش ہونے والے چیئرمین سینٹ رضا ربانی بھی شریک تھے ۔ نیئر حسین بخاری اپنے کزن کی وفات کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے ۔ قبل ازیں بلوچستان سے منتخب سینیٹروں نے وزیراعلٰی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میں زرداری ہاؤس اسلام آباد میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو سے طویل ملاقات کی ۔

سابق ڈپٹی چیئرمین سینٹ جان محمد جمالی بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے پیپلزپارٹی کے امیدوار برائے چیئرمین سینٹ کی حمائت نہ کرنے کے اعلان پر غور کیا گیا۔ وزیراعلٰی بلوچستان نے آصف علی زرداری کو مشورہ دیا کہ وہ پیپلزپارٹی کے لئے ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ رکھیں اور بلوچستان کے نو منتخب آزاد سینیٹروں کے متفقہ امیدوار محمد صادق سنجرانی کو چیئرمین کا امیدوار نامزد کریں ۔

ایسی صورت میںپاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو کوئی اعتراض نہیں ہو گا اور بلوچستان سے چیئرمین سینٹ بنانے کا ان کا ہمارا مشترکہ مطالبہ پورا ہو جائے گا۔ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری نے ان کا مشورہ پارٹی اجلاس میں زیر غور لانے کا عندیہ دیا اور زرداری ہاؤس میں تمام اہم پارٹی قائدین کو طلب کر لیا گیا ۔ اجلاس میں طویل غور و خوص کے بعد فیصلہ کیا گیا کہوزیراعلٰی بلوچستان کا مشورہ مان لیا جائے۔

اس طرح تحریک انصاف کے لئے بھی حمایت کرنا ممکن ہو جائے گا اور ووٹ تقسیم نہیں ہوں گے ۔ اس موقع پر صدر آصف علی زرداری نے واضح کیا کہ ان کا اصل مقصد مسلم لیگ(ن) کے چیئرمین کا راستہ روکنا ہے تاکہ ملک میں مضبوط جمہوری فضاء قائم ہو سکے ۔ پاکستان تحریک انصاف نے بلوچستان سے آزاد حیثیت میں جیتنے والے کسی سینیٹرز کو چیئرمین کا امیدوار بنانے کے فیصلے کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے ۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لئے فاٹا کے سینیٹروں اور دیگر جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ ابھی جاری ہے ۔ ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کے پاس چیئرمین سینٹ کے لئے مطلوبہ تعداد پوری ہو گئی ہے ۔۔