سندھ میں پیپلزپارٹی نے بڑے پیمانے پر دھونس دھمکی اور ہارس ٹریڈنگ کا بازار گرم کر رکھا ہے،صابرقائم خانی

سینیٹ انتخاب میں ووٹوں کی خریدوفروخت کا جس طرح شور مچا ہے اس سے جمہوریت کی دعویدار جماعتوں کے اصل چہرے بے نقاب ہو گئے ہیں، رہنماایم کیوایم

ہفتہ مارچ 22:34

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مارچ2018ء) ایم کیو ایم پاکستان پی آئی بی گروپ کے رکن سندھ اسمبلی صابر قائم خانی نے کہا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی نے بڑے پیمانے پر دھونس دھمکی اور ہارس ٹریڈنگ کا بازار گرم کر رکھا ہے وہ سب کے سامنے ہے، وزراء کی گاڑیوں میں فلورکراسنگ کرنے والے ارکان اسمبلی کو لایا گیا، سندھ اسمبلی کے پولنگ اسٹیشن میں وزراء آزادانہ طور پر آ جا رہے تھے یہ ساری ریکارڈنگ الیکشن کمیشن کے پاس محفوظ ہے، سینیٹ کے انتخاب میں ووٹوں کی خریدوفروخت کا جس طرح شور مچا ہے اس سے جمہوریت کی دعویدار سیاسی جماعتوں کے اصل چہرے بے نقاب ہو گئے ہیں۔

وہ پریس کلب میںپریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جس میں رکن سندھ اسمبلی راشد خلجی بھی موجود تھے، صابر قائم خانی نے کہا کہ جن ارکان نے ضمیر فروشی کی ہے ایم کیو ایم پاکستان ان کے خلاف کاروائی کر رہی ہے، ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ حیدرآباد سے ایم کیو ایم کے منتخب نمائندوں نے اپنی پارٹی کی پالیسی کے مطابق ووٹ دیا ہے ہم میں سے کسی نے ہرگز اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا ہے، انہوں نے کہا کہ فلور کراسنگ کرنے والے 6 ارکان کے نام سامنے آئے ہیں جن میں سلیم بندھانی، خواتین ارکان اسمبلی ہیرسوہو، نائلہ، شازیہ فاروق، سمیتا افضل اور دیگر شامل ہیں، ان کے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے۔

رکن سندھ اسمبلی اور ایم کیو ایم ضلع حیدرآباد کے آرگنائزر راشد خلجی نے کہا کہ ایم کیو ایم چونکہ اب جمہوری طریقہ پر چل رہی ہے اس لئے اختلاف رائے بھی سامنے آ رہا ہے جوکہ جمہوریت کا حسن ہے، اس میں پریشانی کا کوئی عنصر نہیں ہے، انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر ہارس ٹریڈنگ پہلی مرتبہ سامنے نہیں آئی ہے لیکن ایم کیو ایم میں پہلی مرتبہ ہارس ٹریڈنگ ہوئی ہے جو کہ لوگوں کے لئے حیرانگی کا باعث ہے، انہوں نے کہا کہ پی پی حکومت نے شہری حلقوں میں کوئی ترقیاتی کام نہیں کرائے ترقیاتی فنڈز غیرمنتخب لوگوں کے نام پر جاری کرکے اور اپنی من پسند بیوروکریسی تعینات کرکے غیرجمہوری اور متعصبانہ اقدامات کئے گئے جوکہ انتہائی قابل مذمت ہے، انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے شہری لاوارث نہیں ہیں ان نامساعد حالات میں بھی منتخب نمائندوں نے اپنا حق ادا کیا ہے۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments