وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا پرویز مشرف کو عدالت کے فیصلے کی روشنی میں واپس لانے کا عندیہ

نواز شریف کے خلاف مقدمے میں انصاف ہوتا نظر نہیں آتا،عدالت جیل بھیجے گی تو قانون کے مطابق عملدرآمد ہو گا اداروں میں کوئی تنائو نہیں بلکہ آئینی حدود کے تعین کا معاملہ چل رہا ہے ، چیئرمین سینٹ غیر متنازعہ شخص کو لانا چاہئے، نیب آمر کا بنایا ہوا کالا قانون ہے، نجی ٹی وی سے گفتگو

ہفتہ مارچ 22:38

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا پرویز مشرف کو عدالت کے فیصلے کی روشنی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مارچ2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق صدر پرویز مشرف کو عدالت کے فیصلے کی روشنی میں واپس لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کے خلاف مقدمے میں انصاف ہوتا نظر نہیں آتا۔عدالت جیل بھیجے گی تو قانون کے مطابق عملدرآمد ہو گا اداروں میں کوئی تنائو نہیں بلکہ آئینی حدود کے تعین کا معاملہ چل رہا ہے ۔

چیئرمین سینٹ غیر متنازعہ شخص کو لانا چاہئے ۔ نیب آمر کا بنایا ہوا کالا قانون ہے ۔ہفتہ کے روز نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی جس کے بعد اگلے عام انتخابات وقت پر 60 دن میں ہی ہوں گے ۔۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب قبل از وقت انتخابات کا وقت گزرگیا۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جس فیصلے سے ملک کو نقصان ہو وہ سازش ہے نواز شریف کے خلاف کیس میں انصاف ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

(جاری ہے)

عدالت جیل بھیجے گی تو قانون کے مطابق عملدرآمد ہو گا اداروں میں کوئی تنائو نہیں بلکہ آئینی حدود کے تعین کا معاملہ چل رہا ہے ۔ چیئرمین سینت غیر متنازعہ شخص کو لانا چاہئے ۔ نیب آمر کا بنایا ہوا کالا قانون ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) سیاسی جماعت ہے ملک میں سیاست کرنی ہے کسی بھی ادارے کے ساتھ کوئی تنائو نہیں ہے الیکشن میں عوام فیصلہ کرے گی جمہوریت جب آگے بڑھتی ہے تو اداروں میں آئینی حدود کے تعین کا معاملہ چل رہا ہے ملک میں اگر جمہوریت چلتی تو حدود کا تعین ہو جاتا ۔

بدقسمتی سے ملک میں جمہوریت کا عمل نہ چل سکا۔میں جب وزیر اعظم بنا تو کہا گیا کہ تین ماہ تک نہیں چل سکتے پھرکہا گیا سینیٹ کے الیکشن نہیں ہوں گے ۔ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور 60 روز میں الیکشن ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ نگران مدت کے لئے وزیر اعظم بننا کے لئے اپوزیشن لیڈر سے ملاقات ہوئی ہے ایسے شخص کو منتخب کریں گے جس پر تمام جماعتیں متفق ہوں جو غیر متنازعہ اور عوام بھی اچھی رائے رکھتی ہوں اور اپنی حدود میں کام کرے ۔

سینیٹ انتخابات پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ بہتر شخص چیئرمین سینیٹ بنے۔ابھی تک کسی نام پر بات نہیں ہوئی ہم چاہتے ہیں اچھا شخص ہو جو اتفاق رائے سے آئے ۔ سینیٹ میں تمام صوبوں کی شرکت ہوتی ہے لہذا چیئرمین سینٹ متنازعہ نہیں ہونا چاہئے سینٹ کے الیکشن میں واضح ہارس ٹریڈنگ ہوئی کسی جماعت کے مطلوبہ ایم پی اے نہیں ہیں تو ان کا سینیٹر کیسے منتخب ہوا ۔

پیسے دے کر سینیٹر بننے والا اور وہ سینیٹر اپنے ووٹوں سے چیئرمین سینٹ بنائیں گے تو وہ کیا کریں گے ۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے خلاف کیس میں انصاف ہوتا نظرنہیں آتا اور جس فیصلے سے ملک کو نقصان ہو وہ سازش ہوتی ہے۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اگرعدالت نے نوازشریف کوجیل بھیجا تواس پرقانون کے مطابق عمل درآمد ہوگا، نوازشریف پہلے بھی جیل کاٹ چکے۔

نواز شریف کے نام کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ جس کو تمام اراکین پارٹی قائد مانتے ہوں وہ ملک سے نہیں بھاگیں گے اس لیے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔وزیراعظم نے سابق صدر پرویز مشرف کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سوموٹو لے کر احکامات جاری کرے کیونکہ وہ عدالت سے حکم لے کر باہر گئے تھے اور وہ عمل اپنی جگہ پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں کہتا ہوں کہ انصاف سب کو ملنا چاہیے، جس طرح ایک شخص سے نمٹ رہے ہیں اسی طرح دیگر کے ساتھ بھی کریں، نیب کا کوئی ایسا مقدمہ دکھا دیں جس کی ہفتے میں دو مرتبہ سماعت ہوئی ہو۔نیب کے قانون کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یہ ملک اور خاص طور پر سیاسی جماعتوں کی بدقسمتی ہے کہ وہ اس کالے قانون کو ختم نہیں کرسکے کیونکہ یہ ایک آمرکا چند دنوں میں بنایا گیا قانون تھا اور میری نظر میں پہلے دن ہی ختم ہونا چاہیے تھا۔

انھوں نے نیب قانون کے بارے میں کہا کہ یہ انصاف کے بنیادی تقاضوں کے خلاف ہے۔۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ احتساب کے نئے قانون پر پاکستان مسلم لیگ(ن)، پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) تینوں نے مل کر مسودہ تیار کیا تھا لیکن دونوں جماعتیں پیچھے ہٹ گئیں، انھوں نے کہا کہ ابھی یہ آگے ہیں انھیں نمٹنے دیں۔۔پرویز مشرف کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مشرف کا نام عدالت نے باہر نکال دیا تھا اس لیے عدالت پوچھ سکتی ہے کہ ان کا علاج ہوا اور عدالت میں آنے کے لیے ٹھیک ہیں۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ جی! ہم بھی ان کی واپسی کے لیے حکم دے سکتے ہیں۔۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ امریکہ کے موجودہ حالات نارمل نہیں پولیٹیکل سفارتکاری کی ضرورت ہے۔ امریکی حالات کو دیکھتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا کہ نئی ڈپلومیسی کی ضرورت ہے اعزاز چودھری نے اپنا کام اچھے انداز میں کیا ہم نے ایسے شخص کو امریکی سفیر کے لئے انتخاب کیا جس کے پاس تعلیم ، دنیا کا تجربہ ، سیاسی تجربہ رکھتا ہے جہانگیر صدیقی میں کاروباری شراکت دار نہیں اور نہ ہی میں نے کبھی اپنے رشتے داروں کو میرٹ سے ہٹ کر نوازا ۔ قابلیت دیکھ کر علی جہانگیر صدیقی کو امریکی سفیر کے لئے نامزد کیا ۔ ۔