کسی کے ساتھ کوئی تنائو نہیں، ہم نے سیاست کرنی ہے، انتخابات میں فیصلہ عوام ہی کریں گے،ہمیں اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے وہ 50 سال قبل حل ہو جانے چاہیئں تھے،

بدقسمتی سے جمہوریت کا سفر تسلسل کے ساتھ نہ چلنے کی وجہ سے یہ مسائل حل نہیں ہو سکے،آئین میں تمام اداروں کے اختیارات کے حوالے سے وضاحت موجود ہے،انہی اختیارات کے اندر رہتے ہوئے ہر ادارے کو اپنا کام کرنا ہے،ہم نے بالواسطہ یا بلاواسطہ اپنے الیکش میں کوئی پیسہ استعمال نہیں کیا،یہ حلف ہماری جماعت بھی دے گی،ہمارے منتخب امیدوار بھی دیں گے، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

ہفتہ مارچ 22:47

کسی کے ساتھ کوئی تنائو نہیں، ہم نے سیاست کرنی ہے، انتخابات میں فیصلہ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 10 مارچ2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ہمارا کسی کے ساتھ کوئی تنائو نہیں، ہم نے سیاست کرنی ہے، انتخابات میں فیصلہ عوام ہی کریں گے۔ ہمیں اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے وہ آج سے 50 سال قبل حل ہو جانے چاہیئں تھے لیکن بدقسمتی سے جمہوریت کے سفر کے تسلسل کے ساتھ نہ چلنے کی وجہ سے یہ مسائل حل نہیں ہو سکے۔

ہفتہ کو ایک نجی ٹی وی چینل میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے آئین میں تمام اداروں کے اختیارات کے حوالے سے وضاحت موجود ہے اور انہی اختیارات کے اندر رہتے ہوئے ہر ادارے کو اپنا کام کرنا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اب قبل از وقت انتخابات کا وقت گزر چکا ہے،پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور پھر 60 دن کے اندر 2018ء کے عام انتخابات ہوں گے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یکم اگست 2017ء کو جب میں نے بطور وزیراعظم عہدہ سنبھالا تو بعض لوگوں نے کہا کہ 3 مہینے بھی نہیں گزریں گے بعد میں کہا گیا کہ 31 دسمبر نہیں ہو گی جبکہ پھر یہ بھی کہا گیا کہ سینیٹ انتخابات نہیں ہوں گے لیکن الحمدللہ حکومت بھی بہتر طریقے سے چل رہی ہے اور سینیٹ انتخابات بھی بروقت ہو چکے ہیں اس لیے ملک میں عام انتخابات بھی اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اخبارات کے صفحوں پر تو ضرور لکھا ہوتا ہے کہ عام انتخابات بروقت نہیں ہوں گے لیکن ہمیں تو ایسا کچھ بھی نظر نہیں آ رہا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نگران سیٹ اپ اور نگران وزیراعظم کے لیے قانونی طور پر میری اپوزیشن لیڈر خورشید احمد شاہ سے ملاقات بھی ہوئی ہے تاکہ کسی ایسے شخص کے نام پر اتفاق رائے ہو جائے جو غیر متنازعہ ہو اور جس کے بارے میں عوام بھی اچھی رائے رکھتے ہوں جو اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی نام تجویز نہیں ہوئے لیکن حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے نام آ جائیں گے اور مجھے امید ہے کہ کچھ نہ کچھ اتفاق رائے بھی ہو جائے گا، بہتر ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں یا پارلیمنٹ اس کا تعین کر لے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اتفاق رائے سے ایک بہتر شخص چیئرمین سینیٹ بنے کیونکہ سینیٹ اتفاق رائے پیدا کرنے والا ادارہ ہے جو صوبوں کے درمیان بیلنس قائم کرتا ہے اور اگر وہی متنازعہ ہو یا اس کا چیئرمین کوئی ایسا شخص ہو جس کے بارے میں کوئی اچھی رائے نہ ہو تو پھر ادارہ نقصان اٹھاتا ہے، انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں سینیٹ نے اور مجموعی طور پر سیاست نے بے پناہ نقصان اٹھایا ہے کیونکہ ہارس ٹریڈنگ کے جس قسم کے الزامات لگے ہیں وہ قابل مذمت ہیں اور ہارس ٹریڈنگ کے یہ الزامات بڑے واضح ہیں ، کیونکہ جس سیاسی جماعت کے پاس مطلوبہ تعداد میں ایم پی ایز ہی نہیں یا نہ ہونے کے برابر ہیں تو اس کا سینیٹر کیسے منتخب ہو سکتا ہے یا پھر ایسے لوگ کیسے منتخب ہو سکتے ہیں جو کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہی نہیں رکھتے، وہ کس کا ووٹ لیکر منتخب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے اور مستقبل میں اس مسئلے کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ جو لوگ پیسے دیکر سینیٹر منتخب ہوئے ہیں ان کی ترجیحات کیا ہوں گی اور اگر انہی کے ووٹوں سے چیرمین سینیٹ بنتا ہے تو پھر اس کی ترجیحات کیا ہوں گی، یہ سیاست کی بڑی بدقسمتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) بطور ایک سیاسی جماعت اور ہمارے منتخب ہونے والے اراکین سینیٹ حلفیہ طور پر یہ بیان دے سکتے ہیں اور انشااللہ دیں گے بھی کہ ہم نے بالواسطہ یا بلاواسطہ اپنے الیکش میں کوئی پیسہ استعمال نہیں کیا۔

یہ حلف ہماری جماعت بھی دے گی اور ہمارے منتخب کردہ امیدوار بھی دیں گے اور اگر اسی طرح دیگر منتخب اراکین سینیٹ بھی حلف دے دیں تو سب واضح ہو جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ہمارے اندازے سے ایک سیٹ کم نکلی ہے کیونکہ ہم نے اصولی طور پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم کسی قسم کی ہارس ٹریڈنگ میں ملوث نہیں ہوں گے حالانکہ یہاں تو یہ صورت حال تھی کہ کئی جماعتوں نے اپنے ہی ایم پی ایز کو پیسے دیکر ان سے ووٹ حاصل کئے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اس کی قیادت ہمیشہ سے عدالتوں کا احترام کرتی آئی ہے اور عدالت کے احکامات پر عمل کیا جاتا رہا ہے کیونکہ عدلیہ ہم سب کے لیے قابل احترام ہے۔ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالے جانے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عباسی کا کہنا تھا کہ ایک شخص جو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا قائد ہو اور اس کے اراکین اسے اپنا قائد بھی تسلیم کرتے ہوں وہ ملک سے کیوں بھاگے گا اس لیے میرے خیال میں ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف عدالت کے احکامات پر ملک سے باہر گئے تھے اس لیے اب عدالت سو موٹو ایکشن لیکر انہیں ملک واپس لانے کے احکامات جاری کر دے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس حق میں ہوں کہ انصاف سب کو ملنا چاہیئے اور جس طرح ایک شخص کے ساتھ سلوک کیا جاتا ہے دوسروں کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ایک آمر کا قانون تھا جسے چند ہفتوں میں بنایا گیا جو انصاف کے بنیادی تقاضوں کے خلاف ہے جسے بہت پہلے ختم کر دینا چاہیئے تھا لیکن یہ ہمارے ملک اور سیاستدانوں کی بدقسمتی ہے کہ ہم اس کالے قانون کو ختم نہیں کر سکے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب کے اس قانون کو تبدیل کرنے کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف ان تینوں جماعتوں کا اتفاق رائے بھی ہو گیا تھا اور قانون کا مسودہ بھی تیار ہو چکا تھا لیکن آج اس معاملے پر نہ تو پاکستان پیپلز پارٹی ہمارے ساتھ موجود ہے اور نہ ہی پاکستان تحریک انصاف کیونکہ یہ دونوں جماعتیں اس معاملے پر پیچھے ہٹ چکی ہیں کیونکہ ان دونوں جماعتوں کا خیال تھا کہ اس کا شائد ہمیں کوئی فائدہ ہے جس پر ہم نے انہیں کہا کہ اسے آگے کر دیں اور ہمیں نیب کو بھگتنے دیں لیکن کم از کم اس ملک کو اس کالے قانون سے بچائیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ امریکہ میں پاکستان کے نئے سفیر علی جہانگیر صدیقی کی تعیناتی میرٹ پر کی گئی ہے اور علی جہانگیر صدیقی کی تعیناتی کا فیصلہ بہت سوچ بچار کے بعد کیا گیا، مجھے قوی امید ہے کہ علی جہانگیر صدیقی کی امریکہ میں بطور پاکستانی سفیر تعیناتی ایک بہتر فیصلہ ثابت ہو گی،آپ دیکھیں گے کہ وہاں سیاسی سفارتکاری میں ایک نیا رنگ نظر آئے گا جو پاکستان کے لیے مفید ثابت ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ علی جہانگیر صدیقی کے میرے بزنس پارٹنر ہونے کی خبروں میں کسی قسم کی کوئی صداقت نہیں،میں نے ہمیشہ بہتر شخص کی تعیناتی کو ترجیح دی ہے،نہ ہی کبھی اپنا کوئی رشتے دار یا کوئی دوست بھرتی کیا ہے اور مجھے یہ جو ذمہ داری سونپی گئی ہے میں اسے بہتر طریقے سے نبھانے کی کوشش کر رہا ہوں اور کسی بھی عہدے کے لیے جو بہتر شخص ہو اسے ہی تعینات بھی کرتا ہوں،اس وقت علی جہانگیر صدیقی ہی اس عہدے کے لیے بہترین شخص تھے جنہیں تعینات کیا گیا ہے اور وہی وہاں بہتر کام بھی کر سکتے ہیں جن کی کارکردگی سب کو نظر بھی آ جائے گی۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کو (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں سے نکالنے کے لیے تمام تر اقدامات کیے جائیں گے،پہلے بھی ہم نے اقوام متحدہ کی تمام قرادادوں پر عملدرآمد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنا موقف پیش کرتے رہیں گے اور اقوام متحدہ کی قرادادوں پر عملدرآمد کو بھی بڑھائیں گے کیونکہ یہ ہمارے اپنے حق میں بہتر ہے اور ہماری اپنی ایک ضرورت بھی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے۔ بھارت جانتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حالات بھارت کے کنٹرول میں نہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہ وہاں نہتے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر رہا ہے لیکن وہ کشمیریوں کے عزم کو نہ تو متزلزل کر سکا ہے اور نہ ہی کر سکے گا، کشمیری اپنا بنیادی حق حق خود ارادیت حاصل کر کے رہیں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم افغانستاں میں مکمل امن چاہتے ہیں کیونکہ افغانستان کے حالات کا اثر پاکستان پر بھی پڑتا ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نے 2013ء میں جب اقتدار سنبھالا ملکی معیشت کا کافی برا حال تھا جبکہ توانائی بحران سمیت دہشت گردی و انتہا پسندی بھی زوروں پر تھی لیکن ہماری قیادت نے اقتدار سنبھالتے ہی نہ صرف ملکی معیشت کے استحکام کے لیے کام شروع کیا بلکہ توانائی بحران اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بھی موثر و اہم اقدامات کیے جن کی بدولت آج ہماری ملکی معیشت بھی روز بروز مستحکم ہو رہی ہے جس کا اعتراف عالمی اعدادو شمار میں بھی کیا جا رہا ہے جبکہ ملک سے لوڈ شیڈنگ اور دہشت گردی کا بھی خاتمہ کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) حکومت کی موثروکارآمد پالیسیوں کی بدولت ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔