شوپیان میں بھارتی فوجی کیمپ ہٹانے کے لئے ہڑتال جاری

منگل مارچ 11:10

سرینگر ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مارچ2018ء) مقبوضہ کشمیرمیںحالیہ ہلاکتوں کے خلاف شوپیان میں متواترآٹھویں روزبھی زندگی مفلوج رہی۔اس دوران پہنواورپنجورہ کے لوگوں نے یہاں قائم فوجی کیمپ کی منتقلی کامطالبے پرزور دیا ہے۔شوپیان قصبہ سمیت ضلع کے بیشترعلاقوں میں سوموارکوبھی تمام بازاراورکاروباری مراکز بندرہے جبکہ سڑکوں سے مسافر گاڑیاں بھی عملاً غائب رہیں۔

(جاری ہے)

خیال رہے 4 مارچ کی شام ہوئے فائرنگ واقعے میں جوچارمقامی معصوم نوجوان جاں بحق ہوئے تھے ،اٴْ ن میں سہیل احمدوگے ساکنہ پنجورہ ،شاہداحمدخان ساکنہ ملک گنڈ،شاہنوازاحمدوگے ساکنہ لنگن ڈورہ ترنزااورگوہراحمدلون ساکنہ چھتری گام شامل ہیں جبکہ اس دوران 2 مقامی جنگجو نوجوان عامرملک ساکنہ حرمین شوپیان اورعاشق احمد ساکن رکھ کاپرن بھی جاں بحق ہوئے تھے۔ اتوار کو متواتر ساتویں روزبھی ان ہلاکتوں کیخلاف ضلع شوپیان میں ہڑتال کے ساتھ ساتھ ناراضگی جاری رہی جبکہ پہنواورپنجورہ کے لوگوں نے یہاں 2016 ء کے انتفاضہ کے دوران قائم کئے گئے 44آرآرکے کیمپ کوہٹانے کامطالبہ دہرایاکیونکہ مقامی لوگوں کاالزام ہے کہ اسی کیمپ سے وابستہ فوجی حالیہ شہری ہلاکتوں میں ملوث ہیں۔

متعلقہ عنوان :