ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس ،ْ

پتا چلنا چاہیے اربوں کے اکاؤنٹس کہاں سے آئے سپریم کورٹ ہمیں پاکستان کی عزت مقدم ہے ،ْ باقی سب چیزیں ثانوی ہیں ،ْچیف جسٹس ثاقب نثار کے ریمارکس سپریم کورٹ نے پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی درخواست خارج کردی

منگل مارچ 13:47

ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس ،ْ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مارچ2018ء) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ ہمیں پاکستان کی عزت مقدم ہے اور باقی سب چیزیں ثانوی ہیں لہٰذا پتا چلنا چاہیے کہ اربوں روپے کے اکاؤنٹس کہاں سے آئے۔ پیر کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں ایگزیکٹ جعلی ڈگری کیس کی سماعت ہوئی تو پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن کی جانب سے کیس میں فریق بننے کی درخواست کی گئی۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے پی بی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کا کیا مفاد ہی اس پر وکیل نے کہا کہ جرائم کا پیسہ استعمال کیا جارہاہے، پوری میڈیا انڈسٹری اسٹیک پر ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پوری میڈیا انڈسٹری کل بھی اسٹیک پر تھی ،ْکل شاہد مسعود نے کہا میڈیا انڈسٹری اسٹیک پر ہے ،ْ جب بھی ہم کسی سے کچھ پوچھیں تو پوری میڈیا انڈسٹری اسٹیک پر لگ جاتی ہے، پتہ نہیں یہ کون سا اسٹیک ہی کہیں یہ چکن اسٹیک تو نہیں عدالت نے پاکستان براڈ کاسٹر ایسوسی ایشن کی فریق بننے کی درخواست خارج کردی۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس پاکستان نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ایف آئی اے نے جعلی ڈگری سے متعلق کوئی تحریری جواب داخل کرایا ہی اس پر سرکاری وکیل نے بتایا ایف آئی اے نے جواب داخل کرادیا ہے۔اس موقع پر ایگزیکٹ کے وکیل نے بتایا کہ کراچی میں ایگزیکٹ کے خلاف زیر سماعت مقدمے میں 18 گواہان کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں ،ْ راولپنڈی میں بھی مقدمہ زیر سماعت ہے۔

چیف جسٹس نے ایگزیکٹ کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ بول متاثرین کو تنخواہیں دی جائیں، اس پر وکیل نے کہا کہ ہم متاثرین کو تنخواہیں کہاں سے دیں جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ جہاں سیبول چلا رہے ہیں۔سماعت کے موقع پر بول متاثرین کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ٹوٹل متاثرہ ملازمین کی تعداد 300 سے زائد ہے، اس پر چیف جسٹس نے سوال کیا کہ ہمیں ٹوٹل رقم کا پتا نہیں چلے گا تو ہم کیسے ریلیف دیں گی اگر بول نے آپ کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی تو اب فورم کون سا ہوگا بول متاثرین نے کہا کہ ہم مائی لارڈ کے پاس آئے ہیں ،ْچیف جسٹس پاکستان نے مکالمہ کیا کہ مائی لارڈ کیا کرسکتے ہیں ہمیں بتایا گیا ہے کہ بول ملازمین کی تنخواہوں کا مقدمہ سماعت کیلئے مقرر نہیں ہوا، جب مقدمے کی سماعت ہو تو تیاری کرکے آئیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہاکہ ہمیں پاکستان کی عزت مقدم ہے ،ْباقی سب چیزیں ثانوی ہیں، پتا چلنا چاہیے کہ اربوں روپے کے اکاؤنٹس کہاں سے آئے، ایف بی آر کو بلاکرآڈٹ کرالیتے ہیں، سچ اور جھوٹ سامنے آجائے گا۔اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ پاکستان کے نام کی گڈ وِل متاثر نہیں ہونے دیں گے، انہوں نے ایف آئی اے حکام سے سوال کیا کہ مشکوک عوامل کو روکنے کیلئے کیا اقدامات کیے گئی چیف جسٹس نے کہا کہ نوٹس لینے کا مطلب یہ تھا کہ الزامات کے باعث پاکستان کی بدنامی ہورہی ہے، یہ بھی دیکھنا ہے کہ کیا یہ اشتہارات لے رہے ہیں کہاں سے یہ سلسلہ چل رہاہے۔