پاکسانی سیاستدانوں سے کیا چاہتے ہیں ،چیف جسٹس ثاقب نثار نے بتادیا

چاہتے ہیں سیاسی رہنما اپنی تصاویر تصاویراشتہارات میں لگوانا بند کرادیں۔چیف جسٹس

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل مارچ 14:58

پاکسانی سیاستدانوں سے کیا چاہتے ہیں ،چیف جسٹس ثاقب نثار نے بتادیا
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 13 مارچ۔2018ء) سپریم کورٹ میں سرکاری اشتہارات سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ہم چاہتے ہیں سیاسی راہنمااپنی تصاویراشتہارات میں لگوانا بند کرادیں۔سپریم کورٹ میں اشتہارات سے متعلق کیس سے متعلق سماعت میں خیبرپختونخواہ کے سیکرٹری اطلاعات نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ تین ماہ میں 24کروڑ روپے اشتہارات پر خرچ کیے، یہ اشتہارات یکم دسمبر 2017 سے لے کر 28 فروری 2018 تک دیئے گئے، تین ماہ کے اشتہارات میں پرویز خٹک اور عمران خان کی تصاویر تلاش نہیں کرسکا۔

دوران سماعت پنجاب حکومت کی جانب سے سرکاری اشتہارات سے متعلق گزشتہ تین ماہ کی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی گئی جو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جمع کرائی۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ اشتہارات میں سیاسی راہنماﺅں کی تصاویر شامل ہیں؟ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ جی ہاں، اشتہارات میں سیاسی راہنماﺅں کی تصاویر شامل ہیں۔

اس پر جسٹس ثاقب نثار نے سوال کیا کہ ذاتی تشہیرکے پیسے کون دےگا؟ کیا آپ نے 55لاکھ روپے کا پہلے والا چیک دے دیا ہے؟چیف جسٹس نے کہا کہ اس معاملے کو پورا دن سنوں گا، یہ معاملہ ایک دو دن میں حل ہوجائے گا ، اس پر کام کررہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ سیاسی لیڈران کی تصاویراشتہارات میں لگوانا بند کرادیں۔جسٹس ثاقب نے نثار نے حکم دیا کہ اشتہارات میں جو تصاویر لگی ہیں پارٹی راہنماﺅں سے پیسے واپس کرادیں۔واضح رہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے لیپ ٹاپ اور ہیلتھ کارڈ اسکیم پر شہبازشریف کی تصویر کا نوٹس لیا تھا اور سیاسی راہنماﺅں کی تصاویر والے اشتہارات پر پابندی بھی عائد کی۔

متعلقہ عنوان :