حکمرانوں کی نااہلی کی قیمت عوام ادا کرتے ہیں ،ْعمران خان

بھارت میں پاکستان سے سستی بجلی اور گیس ہے ،ْ یہاں ایسا نہیں ہے ،ْہمیں ایسی حکومت نہیں چاہیے جو قرض لے کر ملک پر بوجھ ڈالے ،ْچیئر مین پی ٹی آئی کا جلسے سے خطاب

منگل مارچ 19:42

حکمرانوں کی نااہلی کی قیمت عوام ادا کرتے ہیں ،ْعمران خان
گجرات (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مارچ2018ء) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ حکمرانوں کی چوری اور نااہلی کی قیمت عوام مہنگائی، غربت اور بے روزگاری سے ادا کرتے ہیں ،ْبھارت میں پاکستان سے سستی بجلی اور گیس ہے ،ْ یہاں ایسا نہیں ہے ،ْہمیں ایسی حکومت نہیں چاہیے جو قرض لے کر ملک پر بوجھ ڈالے۔گجرات میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ بھارت میں پاکستان سے سستی بجلی اور گیس ہے لیکن یہاں ایسا نہیں ہے کیونکہ حکمران کرپشن کر رہے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ کہ ہم اس نظام سے باہر نکلنے کے لیے ایک نئی طرح کی سیاست کر رہے ہیں اور ہمیں ایسی حکومت نہیں چاہیے جو قرض لے کر ملک پر بوجھ ڈالے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایسی حکومت اور حکمران نہیں چاہتے جو عوام کا پیسہ ملک سے باہر لے جائے بلکہ ہم ایسی حکومت بنانا چاہتے ہیں جس میں عوام کیلئے کام کرسکیں، لہٰذا عوام ہمیں بتائیں کہ ہم ان کے لیے کیا کرسکتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ جب حکمران کرپشن کرتے تو وہ عوام پر ٹیکس لگاتے ہیں اور چوری کرکے سارہ پیسہ ملک سے باہر لے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف پر جب الزام لگا تھا تو انہوں نے ثابت کرنا تھا کہ یہ پیسا کہاں سے آیا کیونکہ یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ بتائیں کہ ملک سے پیسا باہر کیسے گیا۔انہوں نے نوجوانوں کو تحریک انصاف کا ممبر بننے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقی جمہوریت کا دور ہے اور اس کا مطلب عوام کی رائے سے فیصلے کرنا ہے اور ہمارے ممبر بن کر عوام ہمیں بتا سکتی ہے کہ انہیں کس چیز کی ضرورت ہے۔

انہوںنے کہاکہ اللہ نے اس قوم کو سب دیا ہے اور جو نعمتیں اللہ نے پاکستان کو عطا کی ہیں وہ کسی اور ملک میں نہیں اور اللہ نے اس ملک کو سب دیا ہے تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ جس دن ہم نے ملک کا نظام ٹھیک کرلیا اور تعلیم کو بہتر کردیا تو یہ ملک درست ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ جب تک ایک قوم اپنے انسانوں پر پیسہ خرچ نہیں کرتی جب تک وہ روزگار کی فکر نہیں کرتی وہ قوم ترقی نہیں کرتی کیونکہ میٹرو اور سڑکوں کی تعمیر سے قوم ترقی نہیں کرتی۔

متعلقہ عنوان :