قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی صنعت و پیداوار کا اجلاس، وزارت سے سفارشات پر عملدرآمد کے حوالے سے 10 دن میں تفصیلی رپورٹ طلب

منگل مارچ 20:23

قومی اسمبلی  قائمہ کمیٹی  صنعت و پیداوار کا اجلاس، وزارت سے سفارشات ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مارچ2018ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار نے وزارت سے گزشتہ کی جانیوالی سفارشات پر عملدرآمد کے حوالے سے 10 دن میں تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ وزارت صنعت و پیداوارحکام نے سال 2018-19 ء کے منصوبوں کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی۔ کمیٹی نے 15 منصوبوں کیلئے 13 ارب 43 کروڑ 36 لاکھ روپے کو بجٹ میں شامل کرنے کی منظور دے دی ہے۔

کمیٹی نے نیب حکام کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین اسد عمر کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ جس میں اکثریتی ممبران نے شرکت کی۔ کمیٹی نے 2018-19 ء کے منصوبوں میں آہن کا 130 ملین کے منصوبے کو روکنے کی سفارش کردی ہے۔ چیئرمین کمیٹی اسد عمر نے کہا کہ ہماری وزیر اعلیٰ بلوچستان سے ملاقات ہوئی تھی اس میں گوادر کے ایم این اے بھی شامل تھے۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ گوادر کے عوام سی پیک منصوبے سے خوش نہیں ہیں کیونکہ اس منصوبے سے وہاں کے عوام کو کچھ نہیں مل رہا۔ اسد عمر نے کہاکہ 150 ارب روپے سے سی پیک کا منصوبہ بنایا جارہا ہے لیکن وہاں پر پینے کا پانی نہیں اور بجلی کا بھی مناسب بندوبست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سٹیل مل میں لوگ خود کشیاں کررہے ہیں۔ ملازمین کو پانچ پانچ ماہ کی تنخواہیں نہین مل رہی اور جو ریٹائرڈ ہوگئے ہیں ان کے فندز نہیں دیئے جارہے ہیں کہتا ہوں جب تک سٹیل مل کے ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملتیں تب تک وزیراعظم صدر پاکستان اور تمام پارلیمنٹرین کی تنخواہیں روک لی جانی چاہئیں کمیٹی درجنوں دفعہ کہہ چکی ہے جنہوں نے مل کو تباہ کیا ان کو پکڑتے کیوں نہیں ۔

انہوں نے کہاکہ نجکاری کے وزیر کا خط آیا ہے کہ آپ کی ہمت کیسے ہوئی کہ آپ نجکاری کے معاملات کو ڈسکس کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نجکاری پر بات نہیں کریں گے لیکن سٹیل مل کے ملازمین کو تنخواہیں ملنی چاہئیں ۔ سیکرٹری صنعت و پیداوار نے بتایا کہ سٹیل مل کے جو لوگ مر گئے ہیں ان کے فنڈز نہیں مل رہے ہم سسٹم کے اندر رہ کر کام کر سکتے ہیں اس کے علاوہ نہیں کر سکتے انہوں نے کہا کہ سٹیل مل ملازمین کی تنخواہوں کی جنوری تک کی منظوری ہوچکی ہے۔

کھاڈی ٹیکسٹائل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے حکام نے بتایا کہ یہ منصوبہ 492 ملین کا تھا جس میں حکومت کی طرف سے 230 ملین دیئے گئے اور 262 ملین پرائیویٹ سیکٹر نے دیئے ہیں اس کے پانچ ممبر ہیں جس میں تین پرائیویٹ میں دو پبلک سیکٹر سے ہیں۔ اس پر چیئرمین نے کہ اکہ اس کے شیئرز پنجاب حکومت کو دے دیں کیونکہ وزیراعلیٰ پنجاب اب وزیراعظم کے خواہش مند ہیں کھاڈی ٹیکسٹائل اینڈ ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ کے حکام نے بتایا کہ یہ ادارہ گزشتہ پانچ سال سے منافع میں جا رہا ہے ممبر کمیٹی افتخار الدین نے کہا کہ گوادر میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہاں کے رہنے والوں کو بھی پانی بجلی جیسی بنیادی سہولیات دی جائیں سیکرٹری وزارت نے کمیٹی کو بتایا کہ جن لوگوں نے سٹیل مل کو نقصان پہنچایا ہے ان میں سے اکثر ریٹائرد ہوگئے ہیں نیب کی طرف سے منسٹری کو بھی نوٹس مل ہے۔

متعلقہ عنوان :