سابق چیف جسٹس نے علامہ خادم حسین رضوی کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی مخالفت کردی

خادم حسین رضوی کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی سے قبل دیکھنا ہوگا کہ آیا اس کی کوئی حیثیت ہے یا نہیں، اگر توہین عدالت کی کاروائی عمل میں لائی گئی تو یہ تحریک لبیک کے سربراہ کو لیڈر بننے کا موقع فراہم کرنے کے مترادف ہو گا: افتخار احمد چوہدری

muhammad ali محمد علی منگل مارچ 20:25

سابق چیف جسٹس نے علامہ خادم حسین رضوی کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی ..
لاہور (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 مارچ 2018ء) سابق چیف جسٹس نے علامہ خادم حسین رضوی کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی مخالفت کردی ہے۔ تفصیلات کے مطابق تحریک لبیک یا رسول اللہﷺ کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی کی جانب سے کی جانے والی توہین آمیز تقاریر کے حوالے سے سابق چیف جسٹس افتخار احمد چوہدری کی جانب سے ردعمل دیا گیا ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار احمد چوہدری کی جانب سے علامہ خادم حسین رضوی کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی کی مخالفت کی گئی۔

(جاری ہے)

افتخار چوہدری کا کہنا ہے کہ خادم حسین رضوی کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی سے قبل دیکھنا ہوگا کہ آیا اس کی کوئی حیثیت ہے یا نہیں۔ علامہ خادم حسین رضوی یقینی طور پر قابل احتساب ہے، لیکن ان کی رائے میں اس کی اتنی حیثیت نہیں ہے کہ اعلی عدلیہ اتنا بڑا ایکشن لے۔ افتخار چوہدری کا مزید کہنا ہے کہ اگر توہین عدالت کی کاروائی عمل میں لائی گئی تو یہ تحریک لبیک کے سربراہ کو لیڈر بننے کا موقع فراہم کرنے کے مترادف ہو گا۔ سابق چیف جسٹس افتخار احمد چوہدری کی جانب سے مزید کیا کہا گیا ہے، ملاحظہ کیجیے: