اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے احتساب سے متعلق کارروائی کھلے عام کر نے یا نہ کرنے سے متعلق کیس کی سماعت،

عدالت کوبتایا جائے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میںزیر سماعت ہو نے کے با وجود سپریم جوڈیشل کونسل میںکیو ں زیر سماعت ہے، یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں آج ٹیک اپ کر کے عدالت کوآگاہ کیا جائے،سپریم کورٹ

منگل مارچ 22:39

اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے احتساب سے متعلق کارروائی کھلے عام کر نے یا نہ ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مارچ2018ء) سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے احتساب سے متعلق کارروائی کھلے عام کر نے یا نہ کرنے سے متعلق معاملے کے بارے میں ہا ئی کورٹ کے دو ججو ں کی طرف سے دائر آئینی درخواستوں کی سماعت آج بدھ کی صبح تک ملتوی کر دی اور اٹارنی جنرل کو ہدا یت کوہدایت کی ہے کہ عدالت کوبتایا جائے کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میںزیر سماعت ہو نے کے با وجود سپریم جوڈیشل کونسل میںکیو ں زیر سماعت ہے، یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں آج ٹیک اپ کر کے عدالت کوآگاہ کیا جائے، بدھ کوجسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں پا نچ رکنی لا رجر بینچ نے دو ججو ں کی جانب سے دا ئر آئینی درخواستو ں کی سماعت کی اس موقع پرایک جج کے وکیل حامد خان نے پیش ہوکرکہا کہ میرے موکل جج کے خلاف کارروائی سپریم جوڈیشل کونسل میں جاری ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ کھلے عام سماعت کی درخواست پر فیصلہ ہونے تک میرے موکل جج کے خلاف کارروائی مکمل ہو جائے اور میری درخواست ہی یہاں غیر موثرقرار دے دی جائے، اس لئے یہ ضروری ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکنے کا حکم دیاجائے، جس پرجسٹس شیخ عظمت سعید نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ کیا واقعی ایسا ہو رہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی اس حوالے سے کارروائی جاری ہے تو اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے بتایا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی جا ری ہے جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ کھلے عام سماعت کا معاملہ انتہائی اہم اوراپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے ہم اسے غیر موثر نہیں ہونے دیں گے اور اس کا فیصلہ سنا یا جائے گا، اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ عدالت کی تشویش سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے رکھیں گے آج بھی اس کی ایک معاملے میں کارروائی ہوگی ،جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ جب تک ضروری نہ ہو اس معاملے اب کوئی آرڈر نہیں کریں گے یہ درخواستیں غیر موثر نہیں ہوں گی یہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے، بند کمرے کی کارروائی قانون میں کئی جگہوں پرہوتی ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ، بعدازاں مزید سماعت ملتوی کر دی گئی۔

متعلقہ عنوان :