وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس،رولز آف بزنس 1973ء میں ترامیم اور سعودی حکومت کے ساتھ جرائم کے خاتمہ کیلئے تعاون کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کرنے سمیت مختلف فیصلوں کی منظوری

منگل مارچ 23:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 مارچ2018ء) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت منگل کو وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم ہائوس میں منعقد ہوا جس میں کابینہ نے ’’سول ری وژن بل 2018ء‘‘ کی لمیٹیشن کے حوالے سے مسودہ قانون کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ نے رولز آف بزنس 1973ء میں ترامیم کی منظوری دی۔ ترامیم میں شیڈول III میں ’’حج اور عمرہ ڈائریکٹوریٹ‘‘ وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے ذیلی محکمہ کے طور پر وزارت میں اور ’’قومی زبان کے فروغ کے محکمہ‘‘ اور ’’نیشنل لائبریری آف پاکستان‘‘ کو قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کے ذیلی محکمہ کے طور پر ڈویژن میں شامل کرنا ہے۔

اجلاس کے دوران ’’پاکستان حلال اتھارٹی‘‘ کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈویژن میں شمولیت کی بھی منظوری دی گئی۔

(جاری ہے)

اسی طرح کابینہ کے اجلاس میں نیشنل فرٹیلائزر ڈویلپمنٹ سینٹر (این ایف ڈی سی) کی وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات سے وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ میں منتقلی سمیت رولز آف بزنس میں مختلف ترامیم کی منظوری بھی دی گئی۔ کابینہ نے پاکستان انوائرمینٹل پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچرل کنسلٹنٹ لمیٹڈ کی موسمیاتی تبدیلی ڈویژن سے وزارت منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات میں منتقلی کی بھی منظوری دی گئی۔

اسی طرح اجلاس کے دوران ’’انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بہاولپور بل 2018ء‘‘ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے خوردنی تیل، ویجیٹیبل گھی اور کوکنگ آئیل کو ایف اے ٹی اے اور پی اے ٹی اے میں قائم فیکٹریوں کی طرف سے بطور خام مال درآمد پر سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔ کابینہ نے ہدایت کی کہ ٹیکسز کی شرح میں ردوبدل کو بجٹ تجاویز میں شامل کیا جائے۔

کابینہ نے ’’شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی (ایس زیڈ اے بی ایم یو) اسلام آباد کے وائس چانسلر کی تقرری کیلئے ’’سرچ کمیٹی‘‘ کے قیام کی بھی منظوری دی ہے۔ کمیٹی وفاقی وزیر ہیلتھ سروسز، فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ کے وزیر، کیڈ کے وزیر مملکت، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز لاہور کے وی سی اور معروف ماہر تعلیم ڈاکٹر ثانیہ نشتر پر مشتمل ہو گی۔

کابینہ نے اکادمی ادبیات پاکستان اور نیپال اکیڈمی نیپال کے مابین مفاہمت کی یادداشت کی بھی منظوری دی، جس کے تحت ادیبوں، شاعروں اور ماہرین کے باہمی وفود کے تبادلوں کو فروغ دیا جائے گا۔ مزید برآں معروف سکالرز، شعراء اور ادیبوں کی تصانیف کی ٹرانسلیشن، مشترکہ پبلیکیشنز، تربیتی کورسز کے انتظامات، ادب کے فروغ اور مشترکہ نمائشوں اور کانفرنسز کے انعقاد کی بھی منظوری دی گئی۔

کابینہ نے حکومت پاکستان اور سعودی حکومت کے درمیان جرائم کے خاتمہ کیلئے تعاون کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کرنے کی بھی منظوری دی۔ منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین نے ملک میں آبی انتظامات کے مسائل اور ملک کی پہلی آبی پالیسی کے ڈرافٹ کے حوالے سے کابینہ کو تفصیلی بریفنگ دی۔ نیشنل پالیسی فریم ورک کی اہم خصوصیات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پالیسی کا مقصد پانی سے متعلق مسائل کے خاتمہ اور موثر آبی انتظامات کو متعارف کرانا ہے۔

پالیسی سے آبی ذخائر میں پانی کو ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانے۔ کنزویشن، ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور موجودہ محکمہ جات کی استعداد کار میں اضافہ، مالی وسائل کو مختص کرنا اور صوبائی سطح پر اداروں کے قیام کے مسائل کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے واٹر پالیسی کے ڈرافٹ کی منظوری کیلئے اس کو مشترکہ مفادات کی کونسل میں پیش کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔ اسی طرح کابینہ کے اجلاس میں سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) میں کمشنرز کی خالی آسامیوں پر تعیناتی کی بھی منظوری دی گئی۔ کابینہ نے پبلک سیکٹر کے اداروں میں پروفیشنلز کی خدمات کی بہتری کے حوالے سے سپیشل پے سکیل متعارف کرانے کی اصولی منظوری بھی دی۔