مشترکہ میری ٹائم تنظیم بل 2018ء قومی اسمبلی میں پیش،

مزید غور کے لئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا

بدھ مارچ 13:49

مشترکہ میری ٹائم تنظیم بل 2018ء قومی اسمبلی میں پیش،
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 مارچ2018ء) مشترکہ میری ٹائم تنظیم بل 2018ء قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا جسے مزید غور کے لئے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے مشترکہ میری ٹائم تنظیم بل 2018ء پیش کیا۔ شیریں مزاری نے بل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس بل کی تشکیل میں عالمی اداروں کے قوانین کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

اس بل پر نظرثانی کرکے پیش کیا جائے۔ اس بل میں وزارت داخلہ کا کوئی کردار نہیں ہے۔ سی پیک منصوبہ کے تناظر میں عالمی قوانین ضروری ہیں۔

(جاری ہے)

خرم دستگیر نے کہا کہ بل کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ پی اے سی کی ذیلی کمیٹی میں جب بلوچستان کے حکام آتے ہیں فشنگ کے حوالے سے جو بغیر لائسنس کے کام کر رہے ہیں ان کے حوالے سے بھی بل میں شق شامل ہونی چاہیے تاکہ میری ٹائم ایجنسیوں کو بھی کنٹرول کا اختیار ہونا چاہیے۔

خرم دستگیر خان نے کہا کہ بہتر فیصلہ سازی کے لئے میری ٹائم بل لایا گیا ہے۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ چار ہزار کی گنجائش ہے۔ 18 ہزار ویسلز کام کر رہی ہے۔ بہت سی انڈین ویسلز مچھلیاں پکڑ کر بیچ دیتی ہیں۔ اس کے بعد بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔

متعلقہ عنوان :