کوئٹہ،ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن اور پیرامیڈیکل سٹاف کا مطالبات کے حصول کے لئے سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز دوسرے روز بھی احتجاج بند

ہڑتال سے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہ

ہفتہ اپریل 20:35

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 اپریل2018ء) ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن اور پیرامیڈیکل سٹاف فیڈریشن کی جانب سے اپنے مطالبات کے حصول کے لئے بلوچستان کے سرکاری ہسپتالوں کی او پی ڈیز دوسرے روز بھی بند کر کے اپنا احتجاج جاری رکھا اوراپنے مطالبات کے حصول کے لئے سول سنڈیمن ہسپتال سے ڈاکٹر یاسر خوستی ، جمال شاہ، فضل الرحمان سمیت دیگر کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکالی جو مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی کوئٹہ پریس کلب سامنے پہنچ کر احتجاجی مظاہرے کی شکل اختیار کر گئی مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے مظاہرین کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر میر سرفراز بگٹی نے ہمارے احتجاجی کیمپ آکر ہمارے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ پانچ چھ روز میں مسئلہ حل ہو جائیگا آج15 سی20 روز گزرنے کے باوجود تا حال ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوا اورنہ ہی ہمارے مطالبات تسلیم کئے گئے جس کی وجہ سے ینگ ڈاکٹڑز اور پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کے لو گوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے اور ہم نے باامر مجبوری غیر معینہ مدت تک او پی ڈیز بند کرکے اپنا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رکھا ہے ڈاکٹروں کی احتجاج کی وجہ سے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے طول و عرض سے علاج و معالجے کے لئے سرکاری ہسپتالوں میں آنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے یاد رہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور پیرامیڈیکل اسٹاف فیڈریشن کی جانب سے اپنے مطالبات اور حقوق کے حصول کے لئے پہلے بھی متعدد بار ہسپتالوں میں احتجاج کا سلسلہ شروع کرکے او پی ڈیز اور وارڈز کا بائیکاٹ کیا گیا تھاہڑتالی ملازمین کا کہنا ہے کہ اگر ہمارے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے اور جو مطالبات تسلیم کئے گئے ان پر عملدرآمد کو یقینی نہ بنایا گیا تو ہم اپنے احتجاج کو وسعت دیتے ہوئے او پی ڈیز کو بند کرنے کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے وارڈز کا بھی بائیکاٹ کرینگے یاد رہے کہ ڈاکٹروں کے بائیکاٹ اور احتجاج کی وجہ سے ہسپتالوں میں آنے والے مریض علاج نہ ہونے کی وجہ سے رل گئے ہیں اور ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت ڈاکٹروں کے آئے روز کے احتجاج کا مستقل بنیادوں پر سدباب کرے تاکہ انسانیت کے مسیحا بغیر کسی احتجاج کے عوام کو طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں جبکہ حکومت عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات جس میں تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے لئے بلندو بانگ دعوے کر تی ہے تا حال ڈاکٹروں کے احتجاج کو ختم کرانے کے لئے ان کے جائز مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا ڈاکٹروں کی ہڑتال سے مریضوں کو شدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑتا ہی

Your Thoughts and Comments