ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچہ اپنے لیے آواز اٹھانے سے کیوں ڈرتا ہے؟ رلا دینے والی کہانی آپ بھی ملاحظہ کیجئے:

میں اپنے حقوق کے لیے کبھی آواز نہیں اٹھاؤں گا کیونکہ پولیس کے مارنے پر میں تو بھاگ بھی نہیں سکتا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر اپریل 15:24

ذہنی اور جسمانی طور پر معذور بچہ اپنے لیے آواز اٹھانے سے کیوں ڈرتا ہے؟ ..
لاہور(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔16مارچ 2018ء) محمد شاید عادل نے اپنے ایک کالم ’’میری کہانی، میرے پاپا کی زبانی‘‘ میں اپنے 11سالہ معذور بچے کی کہانی اپنی زبانی بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میرا نام شاہد عبد اللہ ہے۔میری عمر11 سال لیکن میزا ذہن کسی پانچ سالہ بچے جیسا ہے۔اور شاہد تمام عمر ایسا ہی رہے گا۔میں پیدائشی طور پر اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔

اور نہ چل پھرسکتا ہوں۔اگر میں دوائی وقت پر نہ کھاوں تو ایسی صورتحال ہو جاتی ہے کہ اس کو سنھبالنا مشکل ہو جاتا ہے۔لیکن اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔اپنی عمر کے11سال بعد میں اور میرے والدین یہ ذہنی طور پر تسلیم کر چکے ہیں کہ میری زندگی میں مستقبل میں کوئی اچھی تبدیلی آنے کو نہیں ہے میں جب بھی کسی نئی جگہ یا نئے لوگوں میں جاتا ہوں تو زیادہ تر لوگ مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں کہ جیسے میرا تعلق بنی نوع انسان کے علاوہ کسی اور مخلوق سے ہو۔

یہ تمام صورتحال میرے لیے بہت قرب کا باعث بنتی ہے۔مجھے گھر سے باہر جانے کے لیے وہیل چئیر کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ معذور افراد کے لیے وہیل چیئر کا آسانی سے آزادانہ حرکت کرنا یا آگے بڑھنا بنیادی مسئلہ ہوتا ہے۔ میرے جیسے معذور افراد کے لیے ریاست کی جانب سے پہلی اور بنیادی سہولت سڑک پر وہیل چیئر کے چڑھنے اور اترنے کے لیے مناسب ڈھلان ہونا چاہئے۔

میری ریاست میں اوّل تو ہر جگہ فٹ پاتھ کی سہولت ہی نہیں اور اگر کہیں ہے تو اس کے پچانوے فی صد حصہ پر ایک مخصوص مافیا نے قبضہ جما رکھا ہے۔وہیل چئیر کے لیے راستہ بنانے کےلیے کسی خرچے کی ضرورت نہیں ہو تی بلکہ درد دل کی ضرورت ہوتی ہے۔ایک دن ٹی وی پر دیکھا کہ نابیانا افراد اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے تھے کہ پولیس نے ان پر لاٹھی چارج کیا۔اور پھر نابینا افراد نے بھاگنا شروع کر دیا۔اس دن سے میں بہت ڈر گیاہوں ۔ میں اپنے حقوق کے لیے کبھی آواز نہیں اٹھاؤں گا کیونکہ پولیس کے مارنے پر میں تو بھاگ بھی نہیں سکتا۔

Your Thoughts and Comments