صوبے انتظامی سہولت کی بنیاد پر نہیں بنائے جاسکتے، اس سے صوبوں میں تناؤ پیدا ہوگا، سینیٹر میاں رضا ربانی

پیر اپریل 19:27

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ صوبے انتظامی سہولت کی بنیاد پر نہیں بنائے جاسکتے، صوبوں کا قیام ایک تاریخی عمل ہے اور اس بنیاد پر صوبوں میں تناؤ پیدا ہوگا، لسانی، علاقائی اور قدرتی وسائل پر سوالات اٹھیں گے۔ پیر کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبے، اس کے باشندے، اس کی جغرافیہ کی باقاعدہ ایک تاریخ ہوتی ہے، صوبے کے لوگ ہی صوبے کے مالک ہوتے ہیں، ان کی اپنی زبان ہوتی ہے، ان کا کلچر اور رسم و رواج ہوتا ہے اور لوگوں کا اپنے صوبے کے وسائل پر حق ہوتا ہے جو وہ آئینی معاہدے کے ذریعے سے وفاق کو بھی دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامی بنیاد پر صوبے بنانے سے تاریخ کی نفی ہوگی اور اندرونی تنازعات کو مزید بڑھنے کا موقع ملے گا، اس سے یقیناً وفاق بھی متاثر ہوگا، یہاں ضرورت ہے کہ ایک سیاسی فکر کو قومی ڈائیلاگ کے ذریعے اجاگر کیا جائے اور اس کے نتیجے میں وفاق اور صوبوں کے مسائل پر آئینی ترامیم کی جائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ محض آئین کے آرٹیکل(۱) میں ترمیم کرنے سے حل نہیں ہوگا، اس کے تناظر میں مزید آئینی ترامیم کی جائیں گی اور اس کے وفاق اور صوبوں پر دور رس اثرات مرتب ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان خصوصاً ایوانِ بالا کو گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کا اہتمام کرنا چاہئے۔

متعلقہ عنوان :