شانگلہ میں سرکاری سکول اساتذہ اپنے مطالبات کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے

پیر اپریل 22:15

شانگلہ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) سرکاری سکول اساتذہ نے صوبائی قیادت کی کال پر شانگلہ پریس کلب الپوری کے سامنے اور مین چوک بازار میں اپنے مطالبات کے حق میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا، جس کی قیادت سرکاری سکولوں کے تنظیم کے ضلعی صدر رہبرعلی کر رہے تھے، جس میں ضلع شانگلہ بھر سے اساتذہ کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔، مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر ان کے مطالبات تحریرتھے۔

اساتذہ کا اپنے حق میں نکالے گئے احتجاجی مظاہرے سے مقررین کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت پالیسی بنانے کے اساتذہ نمائندوں کو تو بلا لیتی ہے تا ہم ان کئے دئے گئے تجاویز پر عمل نہیں کیا جاتا جو اساتذہ کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے ۔مظاہرے کا مقصد صرف اور صرف اساتذہ کو ان کے بنیادی اور جائز حقوق دینا ہے ، اس حوالے سے صوبائی قیادت کی کال پر صوبائی اسمبلی پشاور کے سامنے احتجاج کیا جائیگا۔

(جاری ہے)

احتجاجی مظاہرے سے خطاب میں اساتذہ نے کہا کہ دوسرے صوبوں کی طرح خیبرپختونخوا کے اساتذہ کو ٹائم سکیل دی جائے۔مقررین کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا صوبائی حکومت اساتذہ کا جائز مطالبات نہ ماننامحکمہ تعلیم کی بنیاد ہلانے کے مترادف ہے ، اساتذہ کے سارے تنظیم اس حوالے سے متحد ہیں ۔ سروس سٹرکچر کی بحالی کیلئے اساتذہ نے انتہائی کوششیں کی ہیں اور انتھک محنت کے بعد اساتذہ کو سروس سٹرکچر دیا گیا ہے ، ٹائم سکیل کے دورانیہ مختصر کرنے اور سروس سٹرکچر کو بحال رکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔

مقررین نے کہا کہ ہم اپنے جائز حقوق کی وصولی کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور اپنے جائز حقوق کے حصول تک احتجاج جاری رہے گی یہ ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے یہ ہم خیرات نہیں مانگتے ہیں ہم اپنے حق کو چھین کر لیں گے۔ مقررین نے کہا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی ناقص تعلیمی پالیسی کی وجہ سے آج اساتذہ سکولوں میں درس وتدریس کے بجائے مجبوراً سڑکوں پر اپنے جائز مطالبات کیلئے نکلے ہیں جو ایک المیہ سے کم نہیں ۔۔