پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت کی سعودی عرب میں چوبیس ملکی فوجی مشق گلف شیلڈ ون کی اختتامی تقریب میں شرکت، عسکریت پسندی کیخلاف اور علاقائی امن کے لئے اس کے عزم اور کوششوں کی عکاس ہے،پاکستان نے ہمیشہ بیرونی جارحیت اور اندرونی بدامنی کے خلاف دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کیا ،اعلیٰ قیادت کی سعودی عرب میں موجودگی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لئے نمایاں کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے،لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود،ایئر وائس مارشل (ر) شہزاد چوہدری،پروفیسر مونس احمر

منگل اپریل 00:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) ملک کے دفاعی و تزویراتی پالیسی کے ماہرین نے ملکی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت کی سعودی عرب میں منعقدہ چوبیس ملکی فوجی مشق گلف شیلڈ ون کی اختتامی تقریب میں شرکت کو عسکریت پسندی کیخلاف اور علاقائی امن کے لئے پاکستان کے عزم اور کوششوں کی عکاس قرار دیا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ سعودی عرب پر تبصرہ کرتے ہوئے دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) طلعت مسعود نے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ بیرونی جارحیت اور اندرونی بدامنی کے خلاف دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے سعودی عرب کے ساتھ تعاون کیا ہے۔

اتحاد میں پاکستان کی شمولیت سعودی عرب کی سالمیت اور دفاع کے حوالے سے اس کے عزم کی عکاس ہے اور یہ دونوں ممالک کے دیرینہ گہرے تعلقات کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

(جاری ہے)

ایئر وائس مارشل (ر) شہزاد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں اور اعلیٰ سول و فوجی قیادت کی مشقوں کی اختتامی تقریب میں شرکت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے چیلنجز پر قابو پانے کیلئے فوجی اتحاد کو مہارت فراہم کرے گا۔

یہ پاکستان کے عسکریت پسندی اور دہشت گردی کیخلاف جبکہ علاقائی امن کے حق میں اس کی کوششوں اور عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ یونیورسٹی آف کراچی کے پروفیسر مونس احمر نے اسے مسلم ممالک کی فوجوں کے لئے ایک اچھا موقع قرار دیا جہاں وہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی مہارت کا تبادلہ کر سکیں گے اور عسکریت پسندی و دہشت گردی کے خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے موثر اقدامات کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت کی سعودی عرب میں موجودگی واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی کے لئے نمایاں کردار ادا کرنے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف اسلامک ملٹری الائنس میں شمولیت کے بعد سے مزید بڑھے ہیں۔ یہ فوجی اتحاد سعودی عرب کی جانب سے دسمبر 2015ء میں داعش اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے خلاف جنگ کے لئے تشکیل دیا گیا جس میں ترکی اور ملائیشیا سمیت 39 ممالک شامل ہیں اور پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اس اتحاد کے سربراہ ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے علاوہ وزیر دفاع خرم دستگیر خان، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، تینوں سروسز کے سینئر حکام اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر وائس ایڈمرل ریٹائرڈ خان ہاشم بن صدیق نے بھی فوجی مشق کی اختتامی تقریب میں شرکت کی۔ جنرل راحیل شریف بھی اس موقع پر موجود تھے۔

متعلقہ عنوان :