فاٹا میں انتظامی اصلاحات جاری،

ایف سی آرکے خاتمے اورفاٹا تک اعلیٰ عدلیہ کے دائرہ کارکی توسیع جیسے اقدامات سے ان علاقوں کو مرکزی دھارے میں لانے میں مدد ملے گی وزارت سیفران کیلئے مختص 26ارب 90کروڑ کے فنڈز میں سے 16ارب اور93کروڑ روپے جاری کئے جاچکے ہیں، مختلف آپریشنز کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے علاقوں میں واپسی اورانہیں سہولیات کی فراہمی کیلئے 52 ارب روپے خرچ کئے جارہے ہیں

منگل اپریل 13:40

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) وفاق کے زیرانتظام قبائیلی علاقہ جات کی ترقی، خوشحالی اوران علاقوں کو ملک کے مرکزی دھارے میں لانے کیلئے حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔پاکستان کے قبائیلی علاقہ جات 7ایجنسیوں اور6سرحدی علاقہ جات(فرنٹئیرریجنز) پرمشتمل ہے۔قبائلی علاقہ جات کی ترقی کیلئے وفاقی حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات کئے جارہے ہیں ۔

مالی سال 2017-18کے بجٹ میں قبائلی اورسرحدی علاقہ جات میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کیلئے خطیررقوم مختص کی گئی تھیں۔منصوبہ بندی کمیشن کے اعدادوشمارکے مطابق جاری مالی سال کے دوران وزارت سیفران کیلئے 26ارب 90کروڑ کے فنڈز مختص کئے گئے تھے جن میں سے اب تک 16ارب اور93کروڑ روپے مالیت کے فنڈرجاری کئے جاچکے ہیں اورمالی سال کے اختتام تک تمام فنڈز کااجراء ممکن بنایاجائے گا۔

(جاری ہے)

قبائلی علاقہ جات میں دہشت گردوں کے خلاف مختلف آپریشنز کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے علاقوں میں واپسی اورانہیں سہولیات کی فراہمی کیلئے 52ارب روپے سے زائد کے فنڈز خرچ کئے جارہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقہ جات کی سماجی اور اقتصادی ترقی کویقینی بنانے کیلئے حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں میں منصوبوں پرکام ہورہاہے۔

وفاقی حکومت قبائلی علاقوں میں زرعی شعبے کے فروغ پرخصوصی توجہ دے رہی ہیں ۔حکومت کی جانب سے آبپاشی کے شعبے کی ترقی کے لئے دو ارب روپے کئے جارہے ہیں ۔فاٹا میں آبپاشی کی 72 سکیموں پر کام شروع کیاگیا تھا جن میں سے 17 سکیمیں مکمل کرلی گئی ہیں۔ ان سکیموں کی تکمیل سے ہزاروں ایکڑ اراضی کو قابل کاشت بنایا جائے گا۔ تعلیم کے مد میں گورنر خیبرپختونخوا کی اعلان شدہ تعلیمی ایمرجنسی کے تحت 1302.977 ملین روپے کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت تمام سرکاری سکولوں کے پہلی جماعت سے لیکر بارھویں جماعت تک کے طلباء کو مفت درسی کتب، قبائلی طلباء کو مفت تعلیم کی فراہمی اور کیڈٹ کالج وانا کی تعمیر شامل ہیں۔

فاٹا میں سڑکوں اورپلوں کی تعمیر، مواصلات کی تعمیرنو، بحالی اوربہتری کیلئے 981.064 ملین روپے ، آبنوشی اور دیگر واٹرسپلائی سکیم کیلئے 311.110 ملین روپے اور فاٹا میں سیاحت کے فروغ کیلئے فاٹا میں 8 منتخب کردہ مقامات کیلئے 397.699 ملین روپے کی منظوری دی گئی ہے ۔ پاکستان کے قبائیلی علاقہ جات معدنی وسائل سے مالامال ہے لیکن اس سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھایاجاسکا۔

موجودہ حکومت کے دورمیں فاٹا کے معدنی وسائل سے استفادہ پرتوجہ دی گئی ہے اوراس وقت اس ضمن میں کئی منصوبوں پرکام جاری ہے ان میں مہمند ایجنسی میں ماربل سٹی کا قیام بھی شامل ہے جس کی تکمیل سے 18 ہزار افراد کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ماربل انڈسٹریل سٹی کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کیلئے گرڈ اسٹیشن اور ایک رابطہ سڑک تعمیر کی جا رہی ہے اور اس سڑک کو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔

۔ جنوبی اورشمالی وزیرِستان میں کئی ترقیاتی منصوبے مکمل ہوگئے ہیں جبکہ باقی پرکام زورشورسے جاری ہے جس سے لوگوں کومختلف شعبوں میں سہولیات ملنا شروع ہوگئی ہیں۔ دہشت گردی سے بری طرح متاثرہ علاقہ مکین میں جدید کاروباری مرکزکھل گیا ہے جس میں پھل پراسس پلانٹ اور 728 دکانیں ہیں۔ اٴْدھرزرعی پارک میں 128 دکانیں، کولڈ اسٹوریج اورچلغوزے محفوظ بنانے کاپلانٹ بھی امیدوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں صحت کی سہولیات بھی عام ہورہی ہیں۔ وانا ماڈل ہسپتال نہ صرف مقامی بلکہ غیرملکی افراد کو بھی علاج معالجے کی سہولیات فراہم کررہا ہے۔ ایجنسی میں تعلیم کی سہولیات کا معیاربھی پہلے سے کافی بلند ہوا ہے۔ کیڈٹ کالج وانا بچوں کو اعلیٰ تعلیمی سہولیات فراہم کررہا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے دورہ جنوبی وزیرستان کے دوران متعدد ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا، یہ منصوبے آپریشن کے بعد فاٹا کے بحالی پروگرام کا حصہ ہیں۔

منصوبوں میں وانا کیلئے 132 کے وی گرڈ سٹیشن ، 54 کلو میٹر ٹرانسمیشن لائن، فاٹا کو ملک کے مختلف حصوں سے ملانے والی ڈیرہ اسماعیل خان ٹانک 62 کلو میٹر طویل شاہراہ اور وانا میں 500 بچوں کیلئے کیڈٹ کالج کا منصوبہ شامل ہیں۔ وفاقی حکومت نے قبائلی نوجوانوں کے لئے چھ ماہ کے دورانیہ پر مشتمل فنی تربیت کا پروگرام بھی شروع کیا ہے ۔ قبائیلی نوجوانوں کو ،سول سروے، ڈرافٹ مین، الیکٹریشن، شمسی توانائی کے نظام کی تنصیب، خودکار مشینوں اور بھاری مشینری چلانے سمیت مختلف شعبوں میں تربیت دی جارہی ہے ۔

تربیت کے دوران نوجوانوں کو مفت قیام و طعام کی سہولت اور ماہانہ وظیفہ بھی دیا جارہاہے ۔ موجودہ حکومت نے فاٹا میں انتظامی اصلاحات کاسلسلہ بھی جاری رکھا ہواہے۔ ایف سی آرکے خاتمے اورفاٹا تک اعلیٰ عدلیہ کی توسیع جیسے اقدامات سے ان علاقوں کو ملک کے مرکزی دھارے میں لانے میں مدد ملے گی۔

متعلقہ عنوان :