گرمیوں میں موتیے کی تمام اقسام کو دھو پ میں رکھنا چاہیے،زرعی ماہرین

منگل اپریل 15:29

سلانوالی۔17 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء)زرعی ماہرین نے بتا یا ہے کہ خوشبودار پھولوںمیں سے موتیاں کا پھو ل نہا یت دلکش اور قد ر ے سفید گلاب سے مشابہت رکھتا ہے ،ا س کے سفید خوشبو دا ر پھولوں سے مو تیا کا تیل نکا لا جاتا ہے، موتیاایک سدابہا ر جھاڑ ی نما پودا ہے ا س کے پتوں کا رنگ گہرا سبز ہو تا ہے ا س کے پھو ل را ت کو کھلتے ہیں او رصبح کو بند ہوجاتے ہیں ،موتیا کے پود ے ٹھنڈ ے اور متعد ل اور گرین ہا ئو س میں رکھے جاتے ہیں ا س کو علاو ہ گر م جگہوں پر اور کمروں میں بھی رکھا جاسکتا ہے گرمیوںمیں ا س کی تمام اقسام کو دھو پ میں رکھنا چاہیے اس سے پھول کھلتے ہیں لیکن مئی کے بعد ا ن کو سایہ دار جگہ پررکھ سکتے ہیں موتیے کی کا شت کے بعد ا س کو ابتدائی مراحل میں بڑھوتر ی کیلئے پانی کافی مقدارمیں در کار ہوتا ہے، گرمیوں میں ا س کو موسم کی مناسبت سے حسب ضرورت پانی دیاجاتا ہے سردیوں میں صرف ا س کو خشک ہو نے سے بچانے کیلئے پانی دیا جاتا ہے ا س کے پودے کو پانی دیتے وقت ا س میں مناسب حد تک کھاد ڈا ل دیں جو کہ ا س کو تیزی سے بڑھنے میں مدد دیتی ہے شروع میں کھا د کی مقدا ر زیاد ہ رکھیں پھر ا س کی مقدار کم کر کے ہلکی آپیاشی کے ساتھ دیں موتیے کی افزائش کیلئے نیم پختہ شاخوں کی دا ب لگائی جاسکتی ہے جو کہ جڑیں بناتی ہے ا ن کو بہا ر سے آکرموسم گرما تک زمین میں دبادیاجاتا ہے ،نئے پو د ے رنزر کی مدد سے بھی بنائے جاسکتے ہیں ا س کی کاشت کرتے وقت پود ے کا فاصلہ 6سی8فٹ ہوتا ہے قطار سے قطار کا فاصلہ اڑھائی سے 3فٹ ہوتا ہے ۔