ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کے وکیل کی بھی واجد ضیاء پر جرح مکمل ،ْ 23اپریل کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت مقرر

تین ایم ایل ایز کو عدالتی ریکارڈ پر بطور شواہد پیش کرنے کی اجازت دی جائے ،ْ سر دار مظفر عباسی کی ہدایت

منگل اپریل 16:40

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کے وکیل نے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء پر جرح مکمل کرلی جس کے بعد عدالت نے 23 اپریل کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت مقرر کردی۔ منگل کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی، اس موقع پر نامزد تینوں ملزمان سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر پیش ہوئے۔

مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز نے مسلسل پانچویں روز نیب کے گواہ واجد ضیاء پر جرح کی جس کے دوران ان کے سوالات پر جے آئی ٹی سربراہ جوابات دیتے رہے۔ مریم نواز کے وکیل کی جرح مکمل ہوئی تو ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے عدالت سے استدعا کی کہ تین ایم ایل ایز کو عدالتی ریکارڈ پر بطور شواہد پیش کرنے کی اجازت دی جائے جس کی وکیل امجد پرویز کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی۔

(جاری ہے)

امجد پرویز نے کہا کہ یہ ایم ایل اے پہلے ریکارڈ کا حصہ نہیں بنائے گئے جس پر عدالت نے نیب کی درخواست مسترد کردی۔عدالت نے مریم نواز کے وکیل کی جرح مکمل ہونے پر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت 20 اپریل تک ملتوی کردی۔احتساب عدالت نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت 23 اپریل کو مقرر کرتے ہوئے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کو طلب کرلیا۔