پولینڈ حکومت پر یورپی جنگلات میں قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درختوں کی کٹائی شروع کرنے کا الزام

منگل اپریل 20:22

لگسمبرگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء)پولینڈکی دائیں بازوکی حکومت نے یورپ کے آخری اہمیت کے حامل جنگلات میں سے ایک میں قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درختوں کی کٹائی کاعمل شروع کردیاہے ،جوکہ یونیسکوکی جانب سے قراردیاگیاعالمی ورثہ مقام کاحصہ ہے ،یہ بات یورپی یونین کی اعلیٰ عدالت نے منگل کے روزکہی۔

(جاری ہے)

بیالوویزاجنگل میں درختوں کی کٹائی کاآغازمئی2016ء میں ہوا،لیکن یورپین کمیشن گزشتہ سال پولینڈکوعدالت میں لے گیا،اوردلیل پیش کی کہ وہ جنگل کوتباہ کررہاہے ،جہاں منفرداقسام کے پودے اورجانورپائے جاتے ہیں ۔

یورپین عدالت انصاف نے ایک بیان میں کہاکہ پیوزکزابیلووائیزکانیٹیورا2000سائیٹ سے متعلق فاریسٹ مینجمنٹ آپریشن جوکہ پولینڈکی جانب سے کئے جارہے ہیں ،یورپی یونین کے قانون کی خلاف ورزی ہے ۔اس کاکہناہے کہ پولیش حکومت کوعدالتی حکم پرعملدرآمدکرناچاہئے اوربلاتاخیرجنگلات کی کٹائی کاعمل روک دیناچاہئے ،یاپھرمالیاتی جرمانے کیلئے تیاررہے ۔بیلووائیزاجوکہ بیلاروس کے ساتھ سرحدتک پھیلاہواہے ،یہ یورپ کے آخری رہ جانے والے جنگل کاحصہ ہے ،جوکہ دس ہزارسال قبل یورپین سرزمین پرمشتمل ہے