اسلام آباد،ایچ ای سی سے فارغ شدہ بھگوڑے ملازمین نے سابق وائس چانسلرز کے ساتھ ملکر محاذ بنا لیا

منگل اپریل 22:32

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اپریل2018ء) وفاقی ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور صوبائی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے مابین دوریاں، نفرتیں پیدا کرنے اور من پسند ایجنڈے کو پورا کرنے کیلئے وفاقی ہائیر ایجوکیشن کمیشن سے فارغ کیے گئے بھگوڑے ملازمین نے سابق وائس چانسلرز کے ساتھ ملکر محاذ بنا لیا ہے جس کا مقصد ملک میں اعلیٰ تعلیمی اداروں (یونیورسٹیوں) میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ، مانیٹرنگ سمیت دیگر معاملات کو یقینی بنانے والے سب سے بڑے ادارے وفاقی ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو متنازعہ بنانا ہے۔

4سال قبل وفاقی ایچ ای سی کے سابق چیئرمین جاوید لغاری کے دور میں مبینہ طور پر من پسند بھرتیاں کی گئیں جن کے کنٹریکٹ ختم ہونے پر انہیں ناقص کارکردگی کی بنائ پر نکالا گیا تو انہوں نے وفاقی ایچ ای سی کے خلاف محاذ بنا لیا جو ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو ساتھ ملکر کر اعلیٰ تعلیم کے فروغ کیلئے کام کرنے والے ادارے کو متنازعہ بنانے کیلئے مصروف عمل ہیں اس ضمن میں انہیں سابق وائس چانسلر کی بھی اشیر باد حاصل ہے جو ان کے اخراجات حتیٰ کہ گاڑیوں کے پٹرول تک برداشت کرتے ہیں انہی بھگوڑوں نے ایک مخصوص گروہ کے ساتھ ملکر گزشتہ روز نئے چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن سمیت قائد اعظم یونیورسٹی، اسلامی یونیورسٹی،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی،نیشنل کالج آف آرٹس و دیگر اداروں کے سربراہان کی تعیناتی کیلئے قائم کی جانے والی سرچ کمیٹی کو بھی متنازعہ بنانے کیلئے احتجاجی مظاہرہ کیا جسے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے اساتذہ نے مکمل طور پر مسترد کر دیا اور اس احتجاجی مظاہرے میں سات طلبہ سمیت کل پندرہ افراد نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

اعلیٰ تعلیمی اصلاحات کے نام پر بنائے گئے مبینہ طور پر نام نہاد اور غیر معروف ورکنگ گروپ جو کئی رجسٹرڈ تک نہیں اور اس کا دائرہ کار پانچ سے چھ اساتذہ کے گرد گھومتا ہے نے انہی بھگوڑوں کی ایمائ پر احتجاجی مظاہرے کی کال دی ان بھگوڑوں نے پنجاب ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے قیام سے لیکر اب تک وفاقی ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور پنجاب ایچ ای سی کے درمیان اختلاف پیدا کرکے اعلیٰ تعلیم کے میدان میں مبینہ رکاوٹیں ڈالتے ہوئے اپنا منفی کردار ادا کیا اور وفاقی ایچ ای سی نکالے جانے کے بعد سے لیکر اب تک مسلسل وفاقی ایچ ای سی کے مثبت اقداما ت، اعلیٰ تعلیم کے فروغ، یونیورسٹیوں کی بہتری کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات کو سبو تاڑ کرنے کیلئے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی اساتذہ تنظیموں کو استعمال کرتے ہوئے منفی رنگ دینا معمول بنا رکھا ہے۔

حیرت انگیز اور پریشان کن بات یہ ہے کہ ان بھگوڑوں کے ہاتھوں اساتذہ کی ملک گیر تنظمیں بھی کھیل رہی ہیں اور اپنی سوچ اور بصیرت کا استعمال کرنے کے بجائے ان بھگوڑوں کی جعلی معلومات پر انحصار اور بھروسہ کرکے اعلیٰ تعلیمی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے عملی اقدامات کی راہ میں رکاوٹ بننے کی ناکام کوششیں کرتے ہیں جس سے اساتذہ کمیونٹی بھی ان کے خلاف سراپا احتجاج رہتی ہے اساتذہ کمیونٹی کا کہنا ہے کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تنظیمیں ایک ایسے شخص کے پیچھے چل رہی ہیں جس کو وفاقی ایچ ای سی سے نکالے جانے سے پہلے سب کچھ ٹھیک تھا اور جب اسے نکال دیا گیا تو اس ادارے میں سب کچھ غلط ہونے لگا۔

حیرت انگیز طور پر یہ لوگ ریٹائرڈ بیوروکریٹس کو بھی اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں تاہم جب ان بیوروکریٹس پر حقیقت اشکار ہوتی ہے تو وہ ان کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔

متعلقہ عنوان :