ایرانی اور ترک صدور کی ٹیلیفونی پرگفتگو، شام کی صورت حال پر تبادلہ خیال

بدھ اپریل 11:03

تہران ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان سے ٹیلی فونی گفتگو میں شام کی تازہ ترین صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور ترکی کو اپنے مشترکہ تعاون کو تقویت دے کر کسی کو بھی شام میں کشیدگی میں اضافے کی اجازت نہیں دینا چاہئے۔ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق انہوں نے علاقے میں امریکا اور اسرائیلی حکومت کے مداخلتوں اور مشکلات پیدا کرنے والے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر شام پر حملہ کرنے والے ممالک کیمیائی ہتھیاروں کے ذمہ داروں کا صحیح انداز میں پتہ لگانا چاہتے تھے تو پھر انہوں نے معائنہ کاروں کو اپنا کام مکمل کرلینے کا موقع کیوں نہیں دیا۔

حسن روحانی نے باہمی دلچپسی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ کو ایران اور ترکی کی اقوام کی خواہش قراردیا اور کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے سمجھوتوں پر جلد از جلد عمل درآمد سے دوطرفہ تعلقات کی توسیع کا عمل تیز ہو گا۔

(جاری ہے)

ترک صدر نے بھی اس موقع پر تمام شعبوں میں تہران اور انقرہ کے روز افزوں تعلقات میں توسیع کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ ترک وزیرخزانہ کے دورہ تہران سے دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے سمجھوتوں پر عمل درآمد کا سلسلہ تیز ہو گا اور باہمی تجارت کا حجم بھی بڑھے گا۔

ترک صدر نے شام کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شام میں کشیدگی کو کم کرنے کے لئے ایران اور روس کے ساتھ تعاون ترکی کی ترجیحات میں شامل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ شام کی سالمیت کا تحفط اور موجودہ صورت حال کو ختم کرنے کے لئے سیاسی حل تلاش کرنا مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہو گا۔

متعلقہ عنوان :