حوثی باغیوں کے ری پبلیکن گارڈزکے گھروں پر چھاپے،متعددکو اغواء کر لیا

ری پبلیکن گارڈز کو صدارتی گارڈز پر لڑائی میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے،عہدیدارکی گفتگو

بدھ اپریل 12:15

صنعائ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء)یمن میں حوثی شدت پسندوں نے دارالحکومت صنعاء میں موجود ری پبلیکن گارڈز کے اغواء کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ اس مہم کا مقصد سابق مقتول صدر علی عبداللہ صالح کے وفاداروں کو چن چن کر ختم کرنا اور انہیں جیلوں میں ڈالنا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ری پبلیکن گارڈ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ حوثی باغیوں کے ایک گروپ نے صنعاء میں ری پبلیکن گارڈز کے گھروں پر چھاپے مارے اور گھروں میں موجود افسران کو اغواء کرنے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ری پبلیکن گارڈ کے افسر کا کہنا تھا کہ حوثی باغیوں کی طرف سے صدارتی گارڈز پر لڑائی میں شامل ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے اور انہوں نے حوثی باغیوں کے پرچم تلے لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

اس لیے انہیں اغواء کیا جا رہا ہے۔ری پبلیکن گارڈز کے افسر جو بریگیڈیئر کے عہدے پر کام کر چکے ہیں کا کہنا تھا کہ جب سے سابق صدر علی عبداللہ صالح کو حوثی باغیوں نے قتل کیا ہے اس کے بعد ان کے وفاداروں کی بڑی تعداد میدان جنگ چھوڑ چکی ہے۔

علی صالح کی موجودگی میں باغیوں کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف لڑنیوالے سابق فوجی بھی اب بغاوت ترک کر کے حکومتی فورسز میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان میں بہت سے سابق فوجی اہلکار بریگیڈیئر طارق صالح کے کیمپ میں شامل ہو رہے ہیں جنہوں نے حوثیوں کے خلاف اور حکومتی فوج کے ساتھ مل کر جنگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔یمنی فوجی افسر کا کہنا تھا کہ حال ہی میں حوثی شرپسندوں نے ری پبلیکن گارڈز کے چار افسران کو اغواء کیا۔ ان پر عرب اتحادی فوج کو معلومات فراہم کرنے کا الزام عایدکیا گیا ہے۔ گرفتارکے بعد انہیں کسی نامعلوم مقام پر لے جایا گیا ہے اور ان کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں ہیں۔