نوازشریف اور مریم نوازکے خلاف نئے ثبوتوں کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے-نیب کی احتساب عدالت سے استدعا

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ اپریل 14:07

نوازشریف اور مریم نوازکے خلاف نئے ثبوتوں کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے-نیب ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔18 اپریل۔2018ء) قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے احتساب عدالت کو بتایا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف دو ریفرنسز سے متعلق بیرون ملک سے ثبوت حاصل کیے گئے تھے، لہٰذا عدالت سے درخواست ہے کہ وہ انہیں ریکارڈ کا حصہ بنائے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی جس میں کہا گیا کہ ایون فیلڈ اور فلیگ شپ ریفرنس میں تحقیقات کرنے والی ٹیم کو غیر ملکی دائرہ کار سے باہمی قانونی معاونت (ایم ایل اے) کے ذریعے جواب موصول ہوگیا اور وہ اسے عدالت کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں۔

اس موقع پر احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی جانب سے پروسیکیوشن اور وکیل صفائی کو ہدایت دی کہ وہ اس درخواست پر اپنے اعتراضات 20 اپریل تک پیش کریں۔

(جاری ہے)

دوسری جانب ایون فلیڈ ریفرنس میں وکیل صفائی کی جانب سے نیب کے گواہ اور پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاءسے جرح مکمل کرلی گئی۔سماعت کے دوران جرح کرتے ہوئے وکیل صفائی امجد پرویز کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا کہ جے آئی ٹی کی نیلسن اور نیسکول کمپنی اور اس کے بنفیشل مالکان کے حوالے سے تفصیلات مانگنے پر برٹس ورجن آئی لینڈ کے اٹارنی جنرل دفتر کی جانب سے پہلے باہمی قانونی معاونت کی درخواست کا جواب دینے سے انکار کیا گیا تھا۔

اس کے بعد جے آئی ٹی کی جانب سے دوسری مرتبہ باہمی قانونی معاونت کی درخواست دی گئی اور بی وی آئی سے کہا گیا تھا کہ وہ صرف موسیک فونسیکا کی خط و کتابت کی تصدیق کردے۔دوران سماعت واجد ضیاءکی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ایک ماہ سے زیادہ ہوگیا وہ روزانہ کی بنیاد پر عدالت میں پیش ہورہے ہیں اور یہ ان کے لیے مشکل ہے کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے دفتر کو دیکھ سکھیں جبکہ اس وجہ سے کچھ معاملات بھی زیر التواءہیں، لہٰذا انہیں وقفے کی ضرورت ہے۔

اس دوران واجد ضیاءنے جے آئی ٹی کی جانب سے برٹس ورجن ا?ئی لینڈ حکام کو باہمی قانونی معاونت کے تحت کی گئی درخواست سے متعلق خطوط پیش کیے۔انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے نیلسن اور نیسکول کمپنیز کی تصدیق شدہ نقول، ایوسی ایشن کے دستاویزات کی تمام نقول، تبدیل شدہ دستاویزات کی نقول، دونوں آف شور کمپنیوں کے رابطے کی تفصیلات، حتمی بنفیشل مالک کی تفصیلات، رجسٹرڈ ڈائریکٹرز، ڈائریکٹرز کے امیدوار، کمپنی کے شراکت دار، ڈائریکٹرز کے رجسٹرڈ، ٹرسٹیز اور بنفیشریز کی تفیصلات فراہم کی جائیں۔

واجد ضیاءنے بتایا کہ انہوں نے جون 2012 میں برٹش ورجن آئی لینڈ کی فنانشل انویسٹی گیشن ایجنسی اور موسیک فونیسکا کے درمیان ہونے والی خط و کتابت کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کی کیونکہ یہ چیز ایف آئی اے اور بی وی آئی کے ڈائریکٹر ایرول جیورج اور موسیک فونسیکا کے منی لانڈرنگ رپورٹنگ افسر جے نزبتھ کے درمیان ہوئی تھی۔واجد ضیاءکے بیان پر جرح کرتے ہوئے ایڈووکیٹ امجد پرویز نے کہا کہ مئی 2017 کے بعد جے آئی ٹی نے برٹش ورجن آئی لینڈ کے اٹارنی جنرل کو ایک اور باہمی قانونی معاونت کی درخواست بھیجی تھی، جس پر واجد ضیاءنے کہا کہ جون 2017 میں آخری ایم ایل اے بھیجی گئی تھی۔

بعد ازاں عدالت نے ایک اور ریفرنس العزیزیہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ میں واجد ضیاءکو 23 اپریل تک بیان ریکارڈ کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔


متعلقہ عنوان :