بھارت میںک رنسی کی قلت کا سامنا، ہزاروں اے ٹی ایم بند

بدھ اپریل 14:45

بھارت میںک رنسی کی قلت کا سامنا، ہزاروں اے ٹی ایم بند
نئی دہلی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) بھارت کی کئی ریاستوں کو ایک مرتبہ پھر نقد رقم کی قلت کا سامنا ہے اور ملک میں ہزاروں اے ٹی ایم بند پڑے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قلت عارضی ہے اور اس مسئلے کو جلدی ہی حل کر لیا جائے گا تاہم حزب اختلاف کی جماعتوں کا الزام ہے کہ عام لوگوں کے لئے پھر ویسے ہی حالات پیدا ہو گئے ہیں جیسے نومبر 2016 میں اچانک بڑے نوٹ بند کیے جانے کے بعد تھے۔

سب سے زیادہ مسئلہ کرناٹک، بہار، مہارشٹر، آندھرا پردیش، راجستھان، اتر پردیش مدھیہ پردیش اور تیلنگانہ میں بتایا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ لوگ اس خدشے کے پیش نظر بھی پیسے نکال رہے ہیں کہ کہیں بعد میں نوٹوں کی قلت اور زیادہ سنگین شکل نہ اختیار کر لے۔

(جاری ہے)

بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی اور کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی کا کہنا ہے ہے کہ اس صورت حال نے 2016 کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔

حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اقتصادی نظام میں کرنسی کی کوئی کمی نہیں ہے اور بعض علاقوں میں کرنسی کی قلت کو پورا کرنے کے لیے نوٹوں کی چھپائی اور وہاں سپلائی تیز کر دی گئی ہے۔تاہم ماہرین کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ قلت کی اصل وجہ کیا ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے ایک سابق نائب گورنر کے مطابق نوٹوں کی سپلائی جتنی ہونی چاہیے تھی اس سے تقریباً پانچ کھرب روپے کم ہے۔

متعلقہ عنوان :