لاپتہ افراد، سندھ ہائی کورٹ نے دیگرصوبوں کے حراستی مراکز سے رپورٹ طلب کرلی

بدھ اپریل 16:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) سندھ ہائی کورٹ میں لاپتہ افرادسے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی ، پولیس نے اب تک کی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کردیا عدالت نے دیگرصوبوں کے حراستی مراکز سے بھی رپورٹ طلب کرلی۔ بدھ کو سندھ ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد سے متعلق سماعت کے دوران پولیس نے عدالت کو اپنی کارروائی کی رپورٹ دیتے ہوئیڈی ای ایس پی الطاف نے بتایا کہ لاپتہ افرا د سے متعلق مختلف اداروں کوخطوط ارسال کیے گئے ہیں۔

حساس اداروں نے محمد فاروق اور سعود بیگ سمیت دیگر لاپتا افراد کی گمشدگی پر لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ افراد ان کی تحویل میں نہیں ہیں۔ڈی ایس پی الطاف کے مطابق محمد فاروق کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرلیاہے، وہ جہاں ملازمت کرتا تھا وہاں بھی چھ ماہ سے نہیں گیا ہے۔

(جاری ہے)

اس سلسلے میں جے آئی ٹی اور ٹاسک فورس کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔

دوسری جانب کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے لاپتہ ہونے والے سعود بیگ کی عدم بازیابی پر عدالت نے اظہار ِ برہمی کیا اور ایس پی ملیر سے دس مئی کو رپورٹ طلب کرلی ہے۔عدالت نے لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے محکمہ داخلہ سندھ،، آئی جی سندھ اور دیگر سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ عدالت نے دیگر صوبوں کے حراستی مراکز سے بھی اس معاملے میں رپورٹ طلب کی ہے اور حکم دیا ہے کہ ہر صورت لاپتہ افراد کا سراغ لگا کر عدالت کو آگاہ کیا جائے۔

یا درہے کہ ا س قبل مارچ میں ہونے والی سماعت میں درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ لاپتہ افرادکی تفتیش کسی ایماندارپولیس افسرکے سپردکی جائے، جس پر جسٹس فاروق شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس ایمانداری کی علامت ہے اگر ایسا نہیں تو ملک چلانا مشکل ہوجائے گا۔مذکورہ سماعت میں عدالت نے لاپتہ افرادکے اہلخانہ کے ڈی این اے لینے اور شہر سے برآمد ہونے والی ناقابل شناخت لاشوں کے ڈی این اے سے میچ کروانے کا حکم دیتے ہوئے رپورٹ 6 اپریل تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

متعلقہ عنوان :