حکومت فرنیچر انڈسٹری کی سرپرستی کرے تو یہ عالمی منڈیوں میں مئوثر مقام بناکر سالانہ اربوں ڈالر کی برآمدات کر سکتی ہے

اس شعبے کے ساتھ روابط میں اضافے،مارکیٹ کی صورتحال،صنعت کی بہتری، ضروریات کے ادراک اور انھیں پورا کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں شعبے کی ترقی اور ملکی مصنوعات کے فروغ سے اربوں ڈالر کا سالانہ زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے سابق گورنر پنجاب سینیٹر چوہدری محمد سرور کی پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں محمد کاشف اشفاق کے ساتھ گفتگو فرنیچر کونسل نے ٹیوٹا کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت وہ لکڑی کا کام کرنے والوں کو سائنسی بنیادوں پر تربیت فراہم کرے گا، بین الاقوامی ٹرینرز کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی، چیف ایگزیکٹو پاکستان فرنیچر کونسل میاں محمد کاشف اشفاق

بدھ اپریل 17:08

حکومت فرنیچر انڈسٹری کی سرپرستی کرے تو یہ عالمی منڈیوں میں مئوثر مقام ..
لاہور ۔18 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) سابق گورنر پنجاب سینیٹر چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ حکومت ملکی فرنیچر کی صنعت کی سرپرستی کرے تو یہ نئی اختراعات اور ڈیزائنوں کے ساتھ عالمی منڈیوں میں موئثر مقام بناکر سالانہ اربوں ڈالر کی برآمدات کرسکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے لاہور میں پاکستان فرنیچر کونسل کے دفتر میں کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا۔

چوہدری محمد سرور نے کہا کہ حکومت اس شعبے کے ساتھ روابط میں اضافے ،مارکیٹ کی صورتحال،صنعت کی بہتری، ضروریات کے ادراک اور انھیں پورا کرنے کے لیے اقدامات کرے۔انھوں نے کہا کہ اس صنعت کی صورتحال اور مسائل سے آگاہی اور ان کے بہتر حل کے لیے حکومت اور اس شعبے کے درمیان روابط انتہائی ضروری ہیں۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ملک ہرسال غیر ملکی فرنیچر مصنوعات کی درآمد پر بھاری زر مبادلہ خرچ کرتا ہے جسے اس شعبے کی حوصلہ افزائی اور برآمدات کو فروغ دے کر کمایا جاسکتا ہے۔

چوہدری محمد سرور نے کہا کہ وہ فرنیچر کی صنعت کی حمایت اور اس کے فروغ کے لیے سینیٹ ( ایوان بالا) میں آواز بھی اٹھائیں گے اور اس ضمن میں دیگر سینیٹر ز سے بھی باتکریں گے تاکہ اس شعبے کے تمام فریقوں سے مل کر اسے باقاعدہ صنعت کا درجہ دینے اور پیداواری صلاحیتوں میں اضافے کے لیے لائحہ عمل کی تشکیل میں ان کی معاونت حاصل کی جاسکے۔انھوں نے کہا کہ وہ فرنیچر کے کاروبار کی معاونت کے لیے گرانٹ کے حصول کے لیے متعلقہ حکام سے بھی بات کریں گے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ نمائشوں اور کاروباری شوز کے ذریعے ملکی فرنیچر مصنوعات کی برآمد میں اپنا کردار زیادہ موئثر انداز میں ادا کرسکیں۔

اس موقعے پر پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں محمد کاشف اشفاق نے کہا کہ تارکین وطن کو قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ فرنیچر کی تیاری میں استعمال ہونے والی جدید میشنین ملک میں متعارف کرائیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فرنیچر کونسل نے ٹیوٹا کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت وہ لکڑی کا کام کرنے والوں کو سائنسی بنیادوں پر تربیت فراہم کرے گا، دونوں ادارے لکڑی کے کاریگروں کی تربیت کے لیے مل کر بین الاقوامی تربیت کاروں کی خدمات حاصل کریں گے۔

میاں محمد کاشف اشفاق نے کہا کہ ہمیں اپنی معیشت کو ہماری اپنی افرادی قوت سے چلانا ہے تاہم اس سلسلے میں ماہرین کی قلت کا سامنا ہے۔انھوں نے کہا کہ فرنیچر کے شعبے کے تحفظ کے لیے پالیسی سازی کی ضرورت ہے، اس وقت ہم چینی مارکیٹ کاہی مقابلہ نہیں کرسکتے جس کی وجہ اس کے کاریگروں کی مہارت اور مصنوعات کی مناسب قیمتیں ہیں۔وہاں تکنیکی تربیت کے لیے ہزاروں سکول موجود ہیں جہاں حکومتی معاونت سے ہرسال 11 ملین افراد تربیت کے لیے داخل ہوتے ہیں۔