6سالہ بچی رابعہ سے مبینہ زیادتی اور قتل کے الزام میں گرفتار 2 ملزمان کا 25 اپریل تک جسمانی ریمانڈ منظور

بدھ اپریل 17:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) ضلع غربی کی دو عدالتوں نے منگھو پیر میں 6 سالہ بچی رابعہ سے مبینہ زیادتی اور قتل کے الزام میں گرفتار 2 ملزمان کا 25 اپریل تک جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔بدھ کو منگھو پیر پولیس نے 6 سالہ بچی رابعہ سے مبینہ زیادتی اور قتل کے الزام میں گرفتار 2 ملزمان رحیم اور فضل کو پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالتوں کو بتایا کہ 16 اپریل کو منگھو پیر کے علاقے نادرن بائی پاس کے قریب جھاڑیوں سے 6 سالہ بچی کی لاش ملی جس پر پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر ورثا کی تلاش شروع کردی۔

تفتیشی افسر کے مطابق ورثا کی تلاش کے بعد پتا چلا کہ جھاڑیوں سے ملنے والی بچی کی لاش رابعہ دختر بقا محمد کی ہے، لاش کی شناخت ہونے کے بعد ورثا نے بتایا کہ رابعہ 15 اپریل کو غوثیہ چوک بلوچ گوٹھ اورنگی ٹاون مین واقعہ اپنے گھر سے 1 بجے غائب ہوئی۔

(جاری ہے)

تفتیشی افسر کے مطابق متاثرہ بچی کے دادا عبدالقادر نے اپنی مدعیت میں 3 ملزمان رحیم، فضل اور فقیر محمد کے خلاف مقدمہ درج کرایا جس پر پولیس نے بروقت کارروائی عمل میں لاتے ہوئے 2 عدالت میں موجود 2 ملزمان رحیم اور فضل کو گرفتار کیا جبکہ مفرور ملزم فقیر محمد کی تلاش جاری ہے۔

۔۔تفتیشی افسر نے عدالت سے ملزمان مزید تفتیش اورانکے مفرور ساتھی کی گرفتاری کے لئے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔۔عدالت نے تفتیشی افسر کا موقف سنتے ہوئے گرفتار ملزمان کو 25 اپریل تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔۔واضح رہے کہ ملزمان کے خلاف ضلع جنوبی دو تھانوں تھانہ منگھو پیر اور تھانہ اورنگی ٹاون میں قتل اور اغوا کی دفعات کے تحت مقدمات درج ہیں۔

متعلقہ عنوان :