ضمانت کی درخواست پر قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی،مشتاق احمد لغاری

مقدمات کے جلد فیصلے کیلئے وکلاء اور فریقین کا متحرک ہونا ضروری ہے،سیشن جج ملیر

بدھ اپریل 20:38

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملیر مشتاق احمد لغاری نے کہا ہے کہ ضمانت کی درخواست پر قانون کے مطابق کاروائی کی جائے گی یہ ضروری نہیں کہ ضمانت کی ہر درخواست منظور کرلی جائے۔ یہ بات انہوں نے ڈسٹرکٹ جیل ملیر کے دورے کے موقع پر قیدیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر جوڈیشل مجسٹریٹس آصف رضا میر، غلام اکبر کے علاوہ سائبان انٹرنیشنل ویلفیئر آرگنائزیشن کے جنرل سکریٹری حیدر علی حیدر بھی ا ن کے ہمراہ تھے۔

مشتاق احمد لغاری نے مختلف بیرکوں میں جاکر قیدیوں سے ملاقاتیں کرنے کے علاوہ مقدمات میںدر پیش رکاوٹوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہی حاصل کی اور مقدمات میں رکاوٹوں کو دور کرنے کا کا اعادہ کیا۔ ججوں کے دورے کے دوران مختلف بیرکوں کے قیدیوں نے اپنے مقدمات کے بارے میں درخواستیں پیش کیں۔

(جاری ہے)

اس موقع پر سائبان انٹرنیشنل ویلفیئر آرگنائزیشن حق نواز اخترکی ہدایت پر 10قیدیوں کی مفت قانونی امداد کیلئے وکالت نامے پر دستخط کروائے۔

قیدی منظور علی ولد پالو نے کہا کہ وہ 29جولائی 2016سے جیل میں ہے جس پر تھانہ شاہ لطیف ٹائون نے زیر دفعہ 396/34 مقدمہ بنایا لیکن مدعی مقدمہ اور اس کے گواہان تاریخوں پر نہیں آتے جس کی وجہ سے اس کا کیس تعطل کا شکار ہے خدارا اس کا کوئی حل نکالا جائے۔ قیدی عرفان ولد نورالامین نے ججوں کو بتایا کہ وہ 6ماہ سے پابندِ سلاسل ہے اس پر ابراہیم حیدری تھانے کی پولیس نے زیر دفعہ 392/39 کے تحت جھوٹا مقدمہ قائم کیا ہے پولیس نے اپنے مخبر کو مدعی بنا کر مجھے پھنسا دیا ہے۔

عرفان نے مزیدبتایا کہ تھانہ ابراہیم حیدری میں قائم کئے جانے والے متعدد جھوٹے مقدمات میں پولیس اپنے مخبر خاص منگیا نامی شخص اور اس کی بیوی کو کہیں مدعی اور کہیں گواہ بنایا ہوا ہے جس کی آپ تحقیقات کرسکتے ہیں جس پر ڈسٹرکٹ جج نے قیدی عرفان سے استفسار کیا کہ آپ کو اتنی معلومات کیسے ہوئی قیدی شکیل ولد معروف نے اپنی درخواست میں کہا کہ وہ 11ماہ سے جیل میں ہے تھانہ قائدآباد نے اس پر جھوٹا مقدمہ 206/17قائم کیا ہے خدارا اسے ضمانت کا آرڈر دیا جائے۔

قیدی ارشد علی ولد بخت علی نے بتایاکہ وہ تین ماہ قبل جوڈیشل مجسٹریٹ xکی عدالت سے ایک جھوٹے مقدمے سے بری ہوا اور گائوں چلا گیا واپسی پر پولیس نے پھر دھرلیا اور 23(i)Aکا مقدمہ بنا کر جیل بھیجدیا اس نے کہا کہ وہ بے گناہ ہے کم از کم اسے ضمانت پر رہائی کا حکم دیا جائے۔ قیدی اللہ یا رولد ڈھر خان نے تھانہ اسٹیل ٹائون کی پولیس کی زیادتی کے بارے میں بتایا کہ وہ محنت مزدوری کرکے آرہا تھا بس سے اترتے ہی پولیس نے پکڑلیا 50ہزار روپے رشوت مانگی نہ دینے پر زیر دفعہ 23(i)A اور 381کا مقدمہ بنا کر جیل بھیجدیا۔

قیدی محمد بلال ولد نذر محمد نے بتایا کہ وہ 15ماہ سے جیل میں ہے اس پر ملیر سٹی پولیس نے زیر دفعہ 496/Aکے تحت مقدمہ قائم کیا ہے جبکہ مدعی مقدمہ تاریخ پر نہیں آرہا ار اسے اس وجہ سے تاریخ پر تاریخ دی جارہی ہے۔ قیدی شعیب ولد نذیر نے اپنی درخواست میں بتایا ہ اس پر تھانہ ابراہیم حیدری نے زیر ِ دفعہ 353/324اور 23(i)Aکے تحت مقدمات قائم کئے ہیں دونوں میں ایک لاکھ روپے کی ضمانت کا آرڈر ہوا ہے لیکن وہ غریب آدمی ہے اس کی غربت کے پیشِ نظر شیورٹی کی رقم کم کی جائے جس پر ڈسٹرکٹ جج نے کہا کہ اس کی درخواست پر غور کیا جائے گا۔

قیدی وسیم غلام ولد غلام اکبر نے بتایا کہ تھانہ قائدآباد نے زیر دفعہ 379تحت مقدمہ بنا کر جیل بھیجدیا وہ جرم قبول کرنے کو تیار ہے اسے انڈرگون کردیا جائے جبکہ تھانہ ابراہیم حیدری کے شاہد ولد جمیل اور تھانہ سی آئی ڈی ایکسائز مختیار ولد ابراہیم نے بھی اعتراف ِ جرم کرتے ہوئے رہائی کی اپیل کی ڈسٹرکٹ جج نے درخواستوں پر ہمدردی سے غور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ قیدی شیر علی ولد جمن، غلام مرتضیٰ ولد روشن، عباس ولد اللہ دتہ، ہارون ولد نذیر احمد، اسلام ولد بوستان ، اختر ولد محمد یار، سید عاقب شاہ ولد سید رحمان شاہ و دیگر نے بھی اپنی درخواستوں میں ڈسٹرکٹ جج سے انصاف کی جلد فراہمی کیلئے اپیل کی۔