کسی بھی شخص کے خلاف کو ئی ٹا رگٹڈ کا روا ئی نہیں کی جا رہی، چیئرمین نیب کی پی اے سی کو یقین دہانی

سالوں سے زیر التواء مقدمات نمٹانے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں، پلی با رگین قا نو نی طر یقہ کا ر کے مطا بق کی جا رہی ہے، جسٹس (ر) جاوید اقبال کی بریفنگ کمیٹی کی پی ایس او گز شتہ 17سال میں فرا ئض سر انجام دینے والے ایم ڈیز سے قوا عدو ضوا بط سے ہٹ کر ادا کی جا نیوالی رقم وصو ل کرنے کی ہدایت

بدھ اپریل 21:38

کسی بھی شخص کے خلاف کو ئی ٹا رگٹڈ کا روا ئی نہیں کی جا رہی، چیئرمین نیب ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) چیئرمین نیب نے پارلیمنٹ کی پبلک اکا ئونٹس کمیٹی کو کسی بھی شخص کیخلاف ٹارگٹڈ کارروائی نہ کئے جانے کا یقین دلاتے ہوئے کہاہے کہ سالوں سے زیر التواء مقدمات نمٹانے کی بھرپور کوششیں کی جارہی ہیں، پلی با رگین قا نو نی طر یقہ کا ر کے مطا بق کی جا رہی ہے۔بدھ کو پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سید خورشید شاہ کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔

اجلاس میں پیٹرو لیم ڈویژن کے سال 2016-17 کے آ ڈ ٹ اعترا ضات سمیت فیڈرل گو رنمنٹ ایمپلا ئز ہا ئو سنگ اسکیم کی تا خیر سے تعمیر کے حوا لے سے نیب مقد مہ کا جا ئزہ لیا گیا۔۔چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کمیٹی کو ریکوڈک ذخائر اورنیب کی کارکردگی سمیت متعدد امور پر ان کیمرہ بریفنگ دی۔

(جاری ہے)

کمیٹی ار کان نے نیب کے طر یقہ کار پر سوا لات کر تے ہو ئے پلی با رگین کے تحت مختلف مقد مات کو نمٹا نے کے حوا لے سے اعترا ضات اٹھا ئے، چیئر مین نیب نے جواب دیا کہ پلی با رگین کے تحت مقد مات قا نو نی طر یقہ کا ر مکمل کر نے پر ہی نمٹا ئے جا تے ہیں، کمیٹی ار کان شیر ی ر حمان ، نو ید قمر اور محمود خان اچکز ئی نے تحفظات کا اظہار کر تے ہو ئے کہا کہ کسی بھی شخص کے خلاف بد عنوا نی کا مقد مہ اپنے منطقی انجام کو پہنچنے سے قبل ہی میڈ یا میں الزا مات کی تشہیر شروع ہو جا تی ہے، میڈ یا ٹرا ئل کیا جا تا ہے جو کسی بھی طر ح قا بل قبو ل نہیں ہے، کمیٹی میں مو جود پا کستان تحر یک انصاف کے رکن اعظم خا ن سواتی نیب کے کردار کی تعر یف کر تے ہو ئے حو صلہ افزا ئی کر تے رہے، چیئر مین نیب نے کہا کہ کو شش کی جا رہی ہے کہ متعدد سا لو ں سے زیر التواء مقد مات نمٹا نے کی بھر پو ر کا و شیں کی جا رہی ہیں۔

بعد ازا ں آ ڈ ٹ حکام نے کمیٹی کو آ گا کیا کہ پا کستان اسٹیٹ آ ئل (پی ایس او) نے 2001 میں ملک بھر میں اپنے آ پر یشنز کیلئے افرادی قوت بھر تی کر نے کی خد مات کا ٹھیکہ ایک نجی کمپنی کو دیا ، پیپرا قوا نین کے مطا بق یہ ٹھیکہ تین سال کیلئے دیا جا تا ہے تا ہم پی ایس او نے 2004میں ٹھیکہ ختم ہو نے کے بعد پیپرا قوا نین کی خلاف ورزی کر تے ہو ئے اشتہار دیئے بغیر اسی کمپنی کو دو با رہ ٹھیکہ دے دیا اور یہ سلسلہ گزشتہ 18سال سے جا ری ہے، ایک ہی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کے با عث پی ایس او قوا عد و ضوا بط سے ہٹ کر 422ملین رو پے کی رقم سروسز کی مد میں ادا کر چکی ہے جو کہ بڑی بے ضا بطگی ہے۔

پی ایس او حکام نے بتا یا کہ 2010میں کمپنی کے ساتھ ٹھیکہ ختم کر نے کی کو شش کی تا ہم بھر تی کئے جا نیوالے ملا زمین نے عدا لت سے سٹے آ رڈر حا صل کر لیا۔ بعد ازا ں 2014میں بھی یہ کوشش کی گئی جس میں عدا لتی سٹے آ رڈر کے با عث کا میا بی نہیں ہو سکی۔چیئر مین کمیٹی سید خور شید شاہ نے بر ہمی کا ا ظہار کر تے ہو ئے کہا یہ معا ملہ اتنا سادہ نہیں ،کو ئی بھی عد لیہ ایسا فیصلہ نہیں کر ے گی جہا ں حکو مت کو نقصان کا سا منا کر نا پڑے،عد لیہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ قو می خزا نے کو نقصان ہو تا ر ہے، اگر کسی جگہ عد لیہ نے ایسے احکا مات دیئے ہیں تو اس کے حوا لے سے سپر یم کو رٹ جا سکتے ہیں،آ ڈ ٹ حکام نے کہا کہ پی ایس او انتظا میہ کمپنی کے ساتھ ملی ہو ئی ہے تا ہم ہما رے پاس اس کے ثبوت مو جو د نہیں ہیں، معا ملہ انتہا ئی پیچیدہ ہے بلا وجہ ایک ہی کمپنی کو یہ ٹھیکہ نہیں دیا گیا۔

خورشید شاہ نے کہا کہ پی ایس او کے ایم دی کو کمیٹی میں پیش ہو نا چاہئے تھا ان کی غیر مو جو دگی یہ بتا رہی ہے کہ وہ اس اجلاس کو اہم نہیں سمجھتے ، پی ایس او حکام نے بتا یا کہ ایم ڈی نز لہ ہو نے کے با عث حا ضری یقینی نہیں بنا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کو ئی بہا نہ نہیں ہے کسی کو بھی دو چھینکیں آ ئیں تو وہ نز لہ نہیں ہو جا تا۔کمیٹی نے پی ایس او کو ہد یت کی کہ گز شتہ 17سال میں فرا ئض سر انجام دینے والے پی ایس او کے ایم ڈیز سے قوا عدو ضوا بط سے ہٹ کر ادا کی جا نے والی رقم وصو ل کی جا ئے ۔ کمیٹی نے ایف آ ئی کو بھی ہدا یت کی کہ مذ کو رہ معا ملہ کی تحقیقا تی ر پو رٹ جلد پیش کی جا ئے ۔