ماہی گیری کے شعبہ سے ہزاروں بلوچستانیوں کا ذریعہ معاش وابستہ ہے،میر عبدالقدوس بزنجو

ہم نے مقامی ماہی گیروں کے روزگار اور حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتے ہیں خاص طور سے غیرقانونی ماہی گیری کا تدارک ضروری ہے جس کیلئے پاکستان نیوی میری ٹائم اور دیگر متعلقہ اداروں کا تعاون ضروری ہے،وزیراعلی بلوچستان

بدھ اپریل 22:52

ماہی گیری کے شعبہ سے ہزاروں بلوچستانیوں کا ذریعہ معاش وابستہ ہے،میر ..
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء) وزیراعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا ہے کہ ماہی گیری کے شعبہ سے ہزاروں بلوچستانیوں کا ذریعہ معاش وابستہ ہے ہم نے مقامی ماہی گیروں کے روزگار اور حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ خاص طور سے غیرقانونی ماہی گیری کا تدارک ضروری ہے جس کے لئے پاکستان نیوی میری ٹائم اور دیگر متعلقہ اداروں کا تعاون ضروری ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کمانڈر کوسٹ پاکستان نیوی ریئر ایڈمرل معظم الیاس سے بات چیت کرتے ہوئے کیا جنہوں نے بدھ کے روز ان سے یہاں ملاقات کی۔وزیراعلی نے کہا کہ ساحلی علاقوں میں پاکستان نیوی کی جانب سے اٹھائے گئے تعلیم اور صحت عامہ کے لئے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ بلوچستان حکومت نیوی کی معاونت سے ساحلی علاقوں میں لوگوں اور ماہی گیروں کی فلاح وبہبود کے لئے اقدامات یقینی بنائے گی۔

(جاری ہے)

ملاقات میں پاکستان نیوی کی معاونت سے مختلف منصوبوں، پسنی فش ہاربر، پسنی ہسپتال، اورماڑہ ایئر پورٹ روڈ کی پیش رفت سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ وزیراعلی نے کہا کہ ساحلی علاقوں کی ترقی ماہی گیروں کی فلاح وبہبود اور ان کو درپیش مشکلات کے حل کے لئے حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لارہی ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ سندھ سے آنے والے ٹرالروں کے غیر قانونی شکار سے مچھلیوں کی افزائش نسل کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

دوسری جانب مقامی ماہی گیروں کا روزگاربھی متاثر ہورہا ہے۔ وزیراعلی نے کہا کہ غیرقانونی فشنگ کی روک تھام کے لئے مثر حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعلی نے پسنی فش ہاربر کی بحالی اور پسنی ہسپتال کو پاک نیوی کی معاونت سے چلانے کے لئے جلد منصوبہ بندی کی ہدایت کی اور پاکستان نیوی کو بلوچستان حکومت کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وزیراعلی نے کہا کہ حکومت گوادر میں شپ یارڈ تعمیر کرے گی تاکہ مقامی سطح پر ماہی گیری کو فروغ مل سکے اور اس شعبہ سے وابستہ لوگوں کی مشکلات ختم ہوسکیں۔ وزیراعلی نے کہا کہ سی پیک کی تکمیل سے ساحلی علاقوں میں تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا۔ وزیراعلی نے کہا کہ حکومت تعلیم صحت اور دیگر شعبوں میں جاری مختلف منصوبوں پر پاک نیوی کی معاونت جاری رکھے گی جس پر کمانڈر کوسٹ پاکستان نیوی نے وزیراعلی کا شکریہ ادا کیا۔