جہانیاں،جج کے قلم سے لکھی گئی دو لائنیں کسی مقدمے کا فیصلہ نہیں بلکہ ایک خاندان کی تقدیر کا فیصلہ ہوتا ہے،

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جاوید الحسن چشتی اس لیے جو بھی لکھنا ہوتا ہے ہمیں سوچ سمجھ کر لکھنا ہوتا ہے، غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ججز اور وکلاء غریب سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں،بروقت انصاف کی فراہمی ،ایمانداری اور بہترین اخلاق ایک کامیاب جج کیلئے بنیادی اصول ہیں، استقبالیہ تقریب سے خطاب

جمعرات اپریل 19:32

جہانیاں(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جاوید الحسن چشتی نے کہا ہے کہ جج کے قلم سے لکھی گئی دو لائنیں کسی مقدمے کا فیصلہ نہیں بلکہ ایک خاندان کی تقدیر کا فیصلہ ہوتا ہے اس لیے جو بھی لکھنا ہوتا ہے ہمیں سوچ سمجھ کر لکھنا ہوتا ہے، غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ججز اور وکلاء غریب سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں،بروقت انصاف کی فراہمی ،ایمانداری اور بہترین اخلاق ایک کامیاب جج کیلئے بنیادی اصول ہیں ۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار بار ایسوسی ایشن کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے تدریس کے شعبہ سے جوڈیشری جوائن کی اور خانیوال میں بطور سول جج تعیناتی ہوئی جہانیاں سے ان کی یاد اللہ ہے خانیوال ،جہانیاں،کبیروالا ،میاں چنوں بار ایسوسی ایشنز سے بے پناہ محبتیں سمیٹیں ۔

(جاری ہے)

جہانیاں بار میں بہت زیادہ شناسائی ہیبار اور وکلاء کے مسائل کے حل کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا ۔

تقریب سے سابق صدر ڈسٹرکٹ بار ہارون الرشید نظامی ،چوہدری حبیب اللہ وڑائچ،ملک عمر حیات میتلا ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کی نظریں عدلیہ پر ہیں کہ عدلیہ ہی ملک بچائے گی ،ہمیشہ بوسیدہ کپڑوں والے لوگ انصاف کی دہلیز پر آتے ہیں جنہیں بروقت انصاف کی فراہمی عبادت کا درجہ رکھتی ہے،جہانیاں بار خوش قسمت ہے کہ انہیں محنتی،ایماندار جج ملے ہیں۔

تقریب سے صدر بار ایسوسی ایشن جہانیاں محمد لطیف خان خٹک اور سیکر ٹری بار مہر رفیق اوترا نے نئے آنے والے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جاوید الحسن چشتی کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے عدل و انصاف کی فراہمی اور وکلاء کے مسائل کے حل کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے ۔صدر بار محمد لطیف خان خٹک نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو وکلاء اور سائلین کیلئے واٹر فلٹریشن پلانٹ کی تنصیب، بار روم کیلئے فرنیچر،اے سی،دو جدید فوٹو اسٹیٹ مشینیں اور ریکارڈ روم کی تعمیر کا بھی مطالبہ پیش کیا۔

اس موقع پر ایڈیشنل سیشن جج جہانیاں جلیل احمد،سینئر سول جج زبیر غوری،سول جج محمد کاشف عثمان شبیر،سول جج محمد ارشد ہاشمی،سابق صدر ڈسٹرکٹ بار خانیوال عمر چیمہ،چوہدری سردار قیصر،شفیق خاور،ملک افتخار الحسن میتلا،رابعہ معظم،مس روبینہ اسماعیل قاضی،ملک عمران سجاد میتلا،ملک حسن،چوہدریا عظم ہنجرا،عامر مجید شاہین،،قاسم ضیاء،،عامر ریاض گل،شریف نوناری،سید جمشید شاہ بخاری،عبدالرحمن اوٹھی،رانا احسان اللہ،رانا مبشر،نظام اللہ خان پاندہ،مجتبی عثمان شاہ،چوہدری امانت دھاریوال،گلشن آصف،ذوالکفل ڈھلوں،چوہدری ظفر اللہ کھرل،ملک شاہد حسین ٹانوری،چوہدری حبیب الرحمن ،پراسیکیوٹرزسمیت عہدیداران و اراکین بار اور صحافیوں نے شرکت کی۔