لاہور ہائیکورٹ کی سانحہ ماڈل ٹائون کیس میں حکومتی عہدیداروں کو طلب کرنے کے حوالے سے دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت

جمعرات اپریل 21:03

لاہور ہائیکورٹ کی سانحہ ماڈل ٹائون کیس میں حکومتی عہدیداروں کو طلب ..
لاہور۔19 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) لاہور ہائیکورٹ کے فل بینچ نے سانحہ ماڈل ٹائون استغاثہ میں وزر اء اور حکومتی عہدیداروں کو طلب نہ کرنے کے معاملے پر وہ تمام دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے جن کی بنیاد پر ان کو طلب کرنا ضروری تھا۔ جمعرات کو جسٹس قاسم علی خان کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے سانحہ ماڈل ٹائون سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کی۔

پاکستان عوامی تحریک نے انسداددہشتگردی کی خصوصی عدالت کی جانب سے 12 حکومتی شخصیات کو استغاثہ میں طلب نہ کرنے کے احکامات کو لاہور ہائیکورٹ کے روبرو چیلنج کر رکھا ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احتشام قادر نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ میں فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور شہادتیں ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

عدالت نے ادارہ منہاج القرآن کے وکیل سے استفسار کیا کہ ایسا کیا مواد تھا جسے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے نظر انداز کر کے ان کو طلب نہیں کیا۔

ادارہ منہاج القرآن کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس وقت وہ مواد ہمارے پاس نہیں تھا لیکن اب حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔ بنچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ نئے شواہد کا جائزہ کس طرح لیا جا سکتاہے۔ فل بنچ نے عوامی تحریک کے وکیل کو انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش کیے جانے والی دستاویزات ( آج) جمعہ تک عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔