سابق صوبائی وزیر سندھ شرجیل میمن سمیت دیگر ملزمان نے سپریم کورٹ زیر سماعت ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں

جمعرات اپریل 23:33

سابق صوبائی وزیر سندھ شرجیل میمن سمیت دیگر ملزمان نے سپریم کورٹ زیر ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 اپریل2018ء) سابق صوبائی وزیر سندھ شرجیل میمن سمیت دیگر ملزمان نے سپریم کورٹ زیر سماعت ضمانت کی درخواستیں واپس لے لی ہیں ۔کیس میں سلمان منصور، عمر شہزاد، ذوالفقار شیروانی شریک ملزمان ہیں۔ جمعرات کو کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جو حقائق سامنے آئے ہیں وہ فیصلے میں لکھ دیئے تو آپکا نقصان ہوگا، ٹرائل کورٹ حساب مانگے گی، وہاں جاکر حساب دیں، اشتہار کی قیمت 400 سو روپے منٹ سے بڑھ کر 12500 فی منٹ کیسے ہوگئی۔

شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان کا اچھا تشخص سامنے لانے کے لیے فلم فیسٹیول کرایا گیا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیں، معاشی دہشتگردی نہیں ہونی چاہیئے ہے، عدالت سے مفرور شخص کس طرح ضمانت مانگ سکتا ہے، شرجیل میمن نے باہر جانے سے پہلے جیل نہیں دیکھی تھی، اب شرجیل میمن نے جیل دیکھ لی ہے، اب اگر وہ باہرگئے تو ان کی کوشش ہوگی واپس نہ آئیں، اشتہاری مہم کی منظوری براہ راست شرجیل میمن نے دی، شرجیل میمن بیرون ملک گئے تو عدالت نے انہیں مفرور قرار دیا، قانون تقاضے پورے کیئے بغیر اشتہار دیئے گئے، شرجیل میمن کے عدالت میں سرینڈر کرنے کے مناظر سب نے دیکھے، شرجیل میمن پر اشتہارات دینے کے حوالے سے کرپشن کا الزام تھا۔

(جاری ہے)

انہوں نے ریمارکس دیئے کہ وزیر اور سیکرٹری کچھ کرنا چاہیں تو کون روک سکتا ہے، قانون میں کئی رعائتیں موجود ہیں، ان کا ہمیشہ غلط استعمال کیا گیا، غلط استعمال کے باعث عدالتوں کو بھی اپنا رویہ سخت کرنا پڑا۔ وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ شریک ملزم گلزار احمد نے طبی بنیاد پر ضمانت مانگی ہے۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ پہلے عدالتیں بیماری پر یقین کر لیتی تھیں، اب میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی جھوٹے بنائے جاتے ہیں، جعلی سرٹیفکیٹ دے کر ڈاکٹرز اپنی ساکھ خراب کر رہے ہیں، سندھ کے ایک کیس میں چیف جسٹس کو بھی مداخلت کرنا پڑی۔ بعدازاں درخواست گزاروں کی ضمانت کی درخواستیں ضمانتیں واپس لے لی گئیں۔