اشرف صحرائی کی طرف سے پارٹی رہنمائوں اور کارکنوں کی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی شدید مذمت

جمعہ اپریل 11:00

سرینگر۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) مقبوضہ کشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء اور تحریک حریت جموںوکشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے کپواڑہ کے رہائشی پارٹی کارکن فاروق احمد بٹ کی مسلسل غیر قانونی نظربندی اور مختلف امراض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے تیزی سے گرتی ہوئی صحت پر شدید تشویش ظاہر کی ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اشرف صحرائی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ فاروق احمد کو وادی سے باہر جیلوں میں سترہ ماہ کی غیر قانونی نظربندی کے بعد بھی رہا نہیں کیاجارہا ہے اور اس دوران وہ ناقص خوراک اور علاج معالجے جیسی بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی کے باعث مختلف امراض میں مبتلا ہو گئے ہیں اور ان کی صحت تیزی سے گررہی ہے ۔

انہوںنے کہاکہ انتظامیہ ان کے خلاف کوئی بھی جرم ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے تاہم اس کے باوجود انہیں مسلسل نظربند رکھا جارہا ہے ۔

(جاری ہے)

محمد اشرف صحرائی نے پارٹی رہنمائوں عبدالغنی بٹ، امیرِ حمزہ شاہ، عبدالسبحان وانی اور عبدالاحد تارزوکی مسلسل غیر قانونی نظربندی کی بھی مذمت کرتے ہوئے انکے صبرو استقلال کو خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوںنے کہاکہ پارٹی رہنماء قید و بند کی صعوبتوں کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کررہے ہیں۔

انہوں نے جدوجہد آزادی کشمیر کو اسکے منطقی انجام تک جاری رکھنے اور اس سلسلے میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کے کشمیریوں کے عزم کااعادہ کیا ۔ تحریک حریت کے چیئرمین نے رعناواری کالج کی طالبات کی احتجاجی ریلی پر بھارتی فورسز کی جانب سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کی بھی شدید کی ۔انہوںنے کہاکہ بھارتی قابض انتظامیہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے جذبہ حریت کوکمزور نہیں کر سکتی ۔

ادھر اشرف صحرائی کی ہدایت پر تحریک حریت کا ایک وفد رواں ماہ کے آغاز میںبھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونیوالے 5نوجوانوںکو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے کژھ ڈورہ شوپیان گیا ۔وفد نے مشی پورہ جاکر شہید اعتماد کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور ان کی ڈھارس بندھائی۔ وفد شہید زبیر ترے کے گھربھی گیا اور انکے اہلخانہ سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا ۔وفد نے شہداء کے اہلخانہ کواشرف صحرائی کا تعزیتی پیغام بھی پہنچایا۔ وفد نے بھارتی فورسز کی طرف سے تباہ کئے جانے والے مکان کے مالک محمد افضل لون کے ساتھ بھی اظہار ہمدردی کیا۔