شکر قندی کے کاشتکاروںکو آبپاشی ، گوڈی ، کیمیائی کھادوں کے بروقت استعمال کی ہدایت

جمعہ اپریل 12:27

فیصل آباد۔20 اپریل(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء)شکر قندی کے کاشتکاروںکو آبپاشی ، گوڈی اور کیمیائی کھادوں کے بروقت استعمال کی ہدایت کی گئی ہے اور کہاگیاہے کہ اگربارشیں زیادہ نہ ہوںتو شکر قندی کی کم از کم 7 سے 8بار آبپاشی یقینی بنائی جائے اور شروع میں 2سی3مرتبہ ہر ہفتہ بعد کی جائے تاہم بعد میں آبپاشی کاوقفہ 15 سے 20 دن تک بڑھایا جاسکتاہے۔

ماہرین زراعت نے بتایاکہ شکر قندی کی کاشت اپریل سے لے کر جون کے وسط تک کی جاسکتی ہے جو اگست اور ستمبر کے مہینہ میں پک کر تیار ہو جاتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ شکر قندی کی وائٹ سٹار نامی قسم سب سے اچھی پیداوار دینے کی حامل ہے۔ انہوںنے کہاکہ پہلی دو آبپاشیوں کے بعد کاشتکار فصل میں موجود جڑی بوٹیاں اور خود روپودے تلف کردیں اور ایک یا دو بار مناسب وترمیں گوڈی بھی یقینی بنائیں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہاکہ جب شکر قندی کی بیلیں بڑھنا شروع ہوں تو گہری گوڈی کرکے پودوں کے ساتھ مٹی چڑھا دی جائے اور جب بیلیں اچھی طرح بڑھ جائیں تو ان کو دوبارہ الٹ پلٹ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ زمین کے ساتھ لگ کر جگہ جگہ جڑیں بنانے میں کامیاب نہ ہوسکیں ۔انہوںنے کہاکہ کاشتکار شکر قندی کی کاشت کے ڈیڑھ ماہ بعد آدھی بوری یوریا، ایک بوری امونیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈال کر آبپاشی کردیں تاکہ اچھی پیداوار حاصل ہوسکے۔