چارپورپی ممالک بحیرہ روم میں غرق ہونیوالے مہاجرین کی تلاش پر متفق

یونان،اٹلی،مالٹا اورقبرص کے حکام جون سے ان تارکین وطن کی تلاش شروع کریں گے،عالمی کمیشن برائے لاپتہ افراد

جمعہ اپریل 13:10

دی ہیگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) چار یورپی ملکوں یونان،، اٹلی،، مالٹا اور قبرص نے رواں برس جون سے ان تارکین وطن کو تلاش کرنے کا کام شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، جو یورپی یونین پہنچنے کی کوششوں میں بحیرہء روم کی نذر ہو گئے۔اس منصوبے کے تحت شمالی شام یا لیبیا سے بحیرہء روم عبور کر کے یورپی یونین کی رکن ریاستوں تک پہنچنے کی کوششوں میں مر جانے والے یا لاپتہ ہو جانے والے تارکین وطن کو تلاش کیا جائے گا۔

میڈیارپورٹس کے مطابق بین الاقوامی کمیشن برائے لاپتہ افراد کی جانب سے بتایا گیا کہ ان چاروں ممالک کے وفود گیارہ جون کو روم میں ملاقات کر رہے ہیں۔دی ہیگ میں قائم ادارے آئی سی ایم پی کی ڈائریکٹر جنرل کیتھرین بومبرگر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر ہم مل کر اس منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیتے ہیں، جو ہمیں لگ رہا ہے کہ شروع ہو جائے گا، تو یہ ایک تاریخی اقدام ہو گا۔

(جاری ہے)

اس ادارے کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد یورپ کو درپیش مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کے تناظر میں فقط اطالوی کوسٹ گارڈز اور بحریہ نے ہی بحیرہء روم کے پانیوں سے، گزشتہ ایک دہائی کے دوران، قریب آٹھ ہزار لاشیں نکالی ہیں۔بومبرگر کے مطابق مختلف ممالک کے درمیان اس تعاون سے بحیرہ روم میں ہلاک یا لاپتہ ہو جانے والے افراد سے متعلق ٹھیک ٹھیک معلومات حاصل ہو پائیں گی۔ بومبرگر نے بتایا کہ اس اجلاس میں لیبیا اور مصر کو بھی بہ طور مبصر شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔