سندھ اسمبلی ،سندھ یونیورسٹی میں اردو زبان پر پابندی کا معاملے پر خواجہ اظہار نے نقطعہ اعتراض پر جواب مانگ لیا

وائس چانسلر نے اس پر وضاحتی بیان جاری کردیا تھا میرے خیال میں ایسی کوئی بات نہیں تھی تمام خبریں بے بنیاد تھیں، اسپیکرسندھ اسمبلی ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا تاہم اسکے باوجود بھی مزید تحقیقات کرینگے ایک ٹیم سندھ یونیورسٹی بھیجیں گے، وزیرتعلیم سندھ جام مہتاب ڈہر سندھ یونیورسٹی میں سائن بورڈ انگریزی اور اردو میں لگے ہیں سندھی زبان میں بھی لگانے کے لئے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اس کامطلب اردو پر پابندی نہیں تھا، ناصر شاہ

جمعہ اپریل 14:10

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) سندھ یونیورسٹی میں اردو زبان پر پابندی کا معاملے پر اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار نے نقطعہ اعتراض پر جمعہ کے روز سندھ اسمبلی میں جواب مانگ لیا خواجہ اظہار نے کہا کہ رجسٹرار نے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اعتراف کیا۔ بتایا جائے سندھ حکومت نے اس حساس معاملے پر اب تک کیا کیا۔ اسپیکر آغا درج درانی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وائس چانسلر نے اس پر وضاحتی بیان جاری کردیا تھا میرے خیال میں ایسی کوئی بات نہیں تھی تمام خبریں بے بنیاد تھیں۔

(جاری ہے)

وزیر تعلیم جام مہتاب ڈہرنے کہاکہ میں نے اس معاملے پر وائس چانسلر سے بات کی ہے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا تاہم اسکے باوجود بھی مزید تحقیقات کرینگے ایک ٹیم سندھ یونیورسٹی بھیجیں گے ۔۔وزیر اطلاعات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ یونیورسٹی میں سائن بورڈ انگریزی اور اردو میں لگے ہیں سندھی زبان میں بھی سائن بورڈ لگانے کے لئے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اس نوٹیفکیشن کا مطلب اردو پر پابندی بلکل نہیں تھا تحقیقات کرائیں گے کہ دانستہ یا نادانستہ ایسا کوئی عمل تو نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ اردو ہماری قومی زبان ہے اسکا احترام ہے اس پر پابندی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔