صوبہ میں امسال 6 ملین ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، سیکرٹری زراعت

جمعہ اپریل 16:18

فیصل آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) سیکرٹری زراعت پنجاب محمد محمود نے کہا ہے کہ صوبہ میں امسال 6 ملین ایکڑ رقبہ پر کپاس کی کاشت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس سے 10 ملین گانٹھ کے پیداواری ہدف کے حصول کی خاطر تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ کپاس کی کاشت 31 مئی تک ہر حالت میں مکمل کی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ساہیوال میں کپاس کی پیداواری ٹیکنالوجی کے متعلق منعقدہ آگاہی سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سیمینار میں ممبران قومی اسمبلی پیر سید عمران احمد ولی شاہ، چوہدری محمد اشرف، ایم پی اے ملک ارشد، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی، ڈائریکٹر جنرلز زراعت سید ظفر یاب حیدر، ڈاکٹر عابد محمود، چوہدری خالد محمود، ڈائریکٹرز ڈاکٹر صغیر احمد، محمد فاروق جاوید سمیت چیئرمین پی سی پی اے سعد اکبر خان، آصف مجید، رائو شاہد اور کاشتکاروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ خادم کسان پیکج کے تحت ایک لاکھ ایکڑ کیلئے بیج کپاس کی منتخب اقسام پر کروڑوں روپے کی سبسڈی بحساب 700 روپے فی بیگ فراہم کی جارہی ہے۔ کپاس کے کاشتکاروں کو 14 کروڑ 74 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے سپرے مشینری سبسڈی پر فراہم کی گئی ہے۔ کاشتکاروں کو جدید معلومات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے پہلے مرحلے میں ایک لاکھ دس ہزار رجسٹرڈ کاشتکاروں کو سمارٹ فونز کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

سیکرٹری زراعت نے مزید کہا کہ کسانوں کیلئے فصلوںکی انشورنس سکیم کا آغاز کر دیا گیا ہے جس کے تحت پہلے مرحلے میں خریف 2018 سے کپاس اور دھان کی فصلوںکا ساہیوال، لودھراں، رحیم یار خان اور شیخو پورہ کے اضلاع میں بیمہ کیا جائے گا۔ اس سکیم کے تحت 5 ایکڑ تک اراضی کے کاشتکاروں کیلئے بیمہ کے پریمیم پر 100 فیصد ادائیگی جبکہ 5 سے 25 ایکڑ تک اراضی کے کاشتکاروں کیلئے بیمہ کے پریمیم پر 50 فیصد سبسڈی دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سیزن صوبہ میں ہم نے روئی کی ایک ملین گانٹھوں کا اضافہ کیا۔ محکمہ زراعت کی رہنمائی اور کاشتکاروں کی محنت سے صوبہ پنجاب میں گزشتہ 2 سالوں کے دوران 20لاکھ گانٹھ روئی کا اضافہ ہوا جس سے 200 ارب روپے کا ملکی معیشت کو اضافی فائدہ پہنچا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے 3 ملین گانٹھ بڑھا کر ملکی معیشت میں 300 ارب روپے کا مزید اضافہ ممکن بنانا ہے۔

پانی کی کم دستیابی سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی مرتب کر لی گئی ہے تاکہ دستیاب وسائل کے ساتھ کپاس کی کاشت اور پیداوار کے اہداف کا حصول یقینی بنایا جا سکے۔ کاٹن مشن 2025 کی تیاری کا مقصد صوبہ میں 20ملین گانٹھ روئی پیدا کرنا ہے۔ کاٹن مشن ایک روڈ میپ ہے جس کے ذریعے کپاس کو اس کے اصل مقام پر لے کر جانا ہے۔ کاٹن کونسل کی تشکیل کی جاری ہے کاٹن کونسل کی باڈی گورنمنٹ، گروورز، ایپٹما، پی سی جی اے و دیگر پرائیویٹ سیکٹر کے نمائندوں پر مشتمل ہوگی۔

انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ گزشتہ سیزن کے دوران گلابی سنڈی کے تدارک کیلئے پی بی روپس کا کاشتکاروں کو بہت فائدہ ہوا۔ ڈی اے پی پر 150 سے بڑھا کر 300 روپے فی بیگ سبسڈی کی جارہی ہے یہ سبسڈی اسی تناسب سے تمام فاسفورسی کھادوں پر لاگو ہوگی۔