شام میں جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو سزا ملنی چاہیے،اقوام متحدہ

جمعہ اپریل 16:18

نیویارک(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ شام میں انتہائی سنگین نوعیت کے جرائم میں ملوث افراد کی شناخت اور ان کیخلاف استغاثہ کی بنیاد پر کیس درج کیا جانا چاہیے۔جمعہ کو اقوام متحدہ کے سربراہ کیتھرین مارچی اوہل نے نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے منعقدہ ایک غیر رسمی اجلاس میں سفیروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی جرائم کے مرتکب افراد کا احتساب کیا جانا چاہیے۔

دسمبر 2016 میں اسمبلی کی جانب سے قائم کیے جانیوالے میکانزم کے دو مقاصد تھے جن میں سے ایک قانون کی خلاف ورزی کے شواہد کو جمع کرنا،اس کی دیکھ بھال کرنا اور اس پر تجزیہ کرنا جبکہ دیگر میں ایسی فائلوں کی تیاری، جس کے ذریعے قومی، علاقائی اور عالمی عدالتوں میں جرائم کی صاف اور خود مختار کارروائی کیلئے عالمی قوانین کے مطابق سہولیات فراہم کرنا شامل ہے۔

(جاری ہے)

کیتھرین مارچی اوہل نے کہا کہ گزشتہ 7 سالوں میں شام کی عوام نے جس خوف کا سامنا کیا ہے اس کی وضاحت ضروری ہے۔بڑی تعداد میں ہونیوالی ہلاکتوں،کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزامات متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کیلئے ایک یاد دہانی ہے۔ان سب میں ہم سب سے زیادہ متاثر ہونیوالی برادری اس کو سمجھتے ہیں کہ جنہیں انصاف سے دور کردیا گیا۔تاہم اس میکانزم کے قیام سے اسمبلی نے جرائم کے احتساب کی یقین دہانی کیلئے انتہائی اہم قدم اٹھایا۔