بھارتی چیف جسٹس کو اپوزیشن کی جانب سے مواخذے کا سامنا

جمعہ اپریل 16:18

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) بھارتی چیف جسٹس دیپک مشرا کو پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مواخذے کا سامنا ہے۔جمعہ کو کانگریس سمیت سات اپوزیشن جماعتوں نے مواخذے کی پٹشن نائب صدراور راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیانائڈو کے پاس جمع کروئی،پٹشن پر 71ارکان کے دستخط موجود ہیں،اگر جسٹس مشرا کیخلاف پٹشن پر کارروائی ہوتی ہے تو یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہو گا۔

اس سے پہلے بھارت میں کسی چیف جسٹس کا مواخذہ نہیں ہوا۔

(جاری ہے)

نائب صدر اس پٹشن کو آگے بڑھانے سے قبل قانونی مشاورت کریں گے۔اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہی واحد طریقہ ہے جس کے تحت پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے چار سینئر ججوں کی جانب سے عائد کیے جانے والے ’’ سنگین معاملا ت‘‘ کی انکوائری کو یقینی بنا سکتی ہے۔ 12? جنوری کو سپریم کورٹ کے چار ججوں جستی چیلمیشور، رنجن گوگوئی، مدن بی لوکوٴْر اور کوریان جوزف نے حیران کن انداز سے عوامی سطح پر اپنی شکایات کا اظہار کیا اور ان ججوں کو سماعت کیلئے مقدمات دینے کے معاملے میں چیف جسٹس انڈیا دیپک مشرا کے رویے پر سوالات اٹھائے تھے۔