عراقی لڑاکا طیاروں کی پہلی بار شام میں داخل ہوکر داعش کے اہداف پر کارروائی

شامی علاقے کے اندر داعش کے دہشت گردوں کے خلاف اس لیے فضائی کارروائی کی گئی چونکہ اِنہی دہشت گردوں کی جانب سے عراقی سرزمین پر حملے کیے جاتے رہے ہیں، ہماری بہادر مسلح افواج کے پاس یہ بہتر صلاحیت تھی جس کا مظاہرہ کرتے ہوئے اِن ٹھکانوں کا صفایا کرنے کا مشن عمل میں لایا گیا، وزیر اعظم حیدر العبادی

جمعہ اپریل 16:26

بغداد/دمشق (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 اپریل2018ء) عراقی لڑاکا طیاروں نے شام میں داعش کے اہداف پر کارروائی کی ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق حکومتِ عراق نے کہا ہے کہ عراقی لڑاکا طیاروں نے جمعرات کے روز مشرقی شام میں داعش کے ٹھکانوں کے خلاف شدید فضائی کارروائیاں کیں۔صوبہ انبار کی سرحد کے ساتھ تعینات عراقی فوج اور الحشد الشعبی نے شام میں داعش کے اہداف پر راکیٹ فائر کیے۔

لیکن عراق نے پہلی بار کارروائی کرتے ہوئے ہمسایہ ملک کی حدود میں داخل ہو کر فضا سے اہداف کو نشانہ بنایا۔ وزیر اعظم حیدر العبادی کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ شامی علاقے کے اندر داعش کے دہشت گردوں کے خلاف اس لیے فضائی کارروائی کی گئی چونکہ اِنہی دہشت گردوں کی جانب سے عراقی سرزمین پر حملے کیے جاتے رہے ہیں، جب کہ ہماری بہادر مسلح افواج کے پاس یہ بہتر صلاحیت تھی جس کا مظاہرہ کرتے ہوئے اِن ٹھکانوں کا صفایا کرنے کا مشن عمل میں لایا گیا۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا ہے کہ العبادی کے احکامات پر اور حکومتِ شام سے رابطے میں رہتے ہوئے عراقی ایف 16 طیاروں کی مدد سے یہ فضائی کارروائی کی گئی۔عراقی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ شام میں دریائے فرات کے ساتھ دیر الزور کے جنوب میں واقع حاجین کے قصبے میں داعش کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا۔وزارت کی جانب سے جاری کی گئی وڈیو فٹیج اور شائع ہونے والی تصاویر میں عراقی جیٹ طیاروں کو پرواز بھرتے ہوئے، اور ایک اور وڈیو میں ایک عمارت پر بم گراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

وزارت نیبتایا ہے کہ اس کارروائی کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد عراقی مشترکہ آپریشنز کمان نے کی، جس کی خفیہ معلومات امریکی قیادت والے اتحاد نے فراہم کی تھی۔اتحاد کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فضائی حملے عراق کے اس عزم کے غماز ہیں جن میں داعش کے دہشت گرد گروپ کے باقی ماندہ عناصر کا خطے سے صفایا کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔